Hitler Political Remarks
حیدرآباد ۔ تلنگانہ کے وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور صنعتیں ڈی سریدھر بابو نے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کے متنازع بیان کے معاملے میں ان کا دفاع کرتے ہوئے بھارت راشٹرا سمیتی کے رہنماؤں پر تنقید کی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اپوزیشن قائدین سیاسی فائدے کے لیے وزیر اعلیٰ کے بیان کے صرف ایک حصے کو پیش کر رہے ہیں جبکہ مکمل تناظر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
سریدھر بابو نے بنگلورو میں منعقدہ دی ہندو کانکلیو میں ریونت ریڈی کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ناقدین پوری بحث کو نظر انداز کر کے صرف ایک لفظ پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق بعض رہنما انتظامی نقطۂ نظر کو سمجھے بغیر تبصرے کر رہے ہیں۔
وزیر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے بیان کا مقصد کسی نظریے کی حمایت کرنا نہیں تھا بلکہ انتظامی فیصلہ سازی اور مؤثر عمل درآمد کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا۔ مزید برآں، انہوں نے دعویٰ کیا کہ بیان کو اصل پس منظر سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔
بیان کے پس منظر پر حکومتی مؤقف | Hitler Political Remarks
سریدھر بابو کے مطابق ریونت ریڈی نے اپنی تقریر میں انتظامی عزم اور تیز رفتار نفاذ کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے کسی بھی مرحلے پر ایڈولف ہٹلر سے وابستہ نظریات یا طرز فکر کی حمایت نہیں کی۔
انہوں نے وضاحت کی کہ بیان کا تعلق ریاست میں مختلف ترقیاتی اور انتظامی اقدامات کے مؤثر نفاذ سے تھا۔ چنانچہ اسے سیاسی رنگ دینے کی کوششیں حقیقت کے منافی ہیں۔
وزیر نے مزید کہا کہ حکومت جھیلوں، تالابوں اور دیگر عوامی اثاثوں کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق مضبوط انتظامی فیصلوں کے بغیر تجاوزات کے خلاف مؤثر کارروائی ممکن نہیں۔
اپوزیشن پر سیاسی فائدے کا الزام | Hitler Political Remarks
سریدھر بابو نے بھارت راشٹرا سمیتی کے ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کے ٹی راما راؤ نے مکمل گفتگو اور اس کے پس منظر کو سمجھے بغیر اس معاملے پر ردعمل ظاہر کیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہائیڈرا کی جانب سے تجاوزات کے خلاف جاری کارروائیوں نے غیر قانونی قبضہ داروں کو بے چین کر دیا ہے۔ دریں اثنا، اپوزیشن جماعتیں اسی صورتحال کو سیاسی تنازع میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
وزیر کے مطابق بعض سیاسی رہنما وزیر اعلیٰ کے بیان کے گرد تنازع کھڑا کر کے سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی اولین ترجیح جھیلوں، آبی ذخائر اور دیگر عوامی املاک کا تحفظ ہے۔
سریدھر بابو نے کہا کہ تجاوزات کے خاتمے اور عوامی اثاثوں کے تحفظ کے لیے حکومت اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ریاستی انتظامیہ عوامی مفاد کے منصوبوں پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے اور سیاسی تنقید سے اس کے عزم میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔
