حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ نے جمعرات کے روز گروپ ون تقرریوں سے متعلق فیصلہ مؤخر کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ حتمی فیصلہ 5 فروری کو سنایا جائے گا۔ عدالت نے وکلا کو بتایا کہ فیصلے کی تحریری نقل ابھی تیار نہیں ہو سکی، جس کے باعث اگلی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔
عدالت کے ڈویژن بنچ نے واضح کیا کہ فیصلے میں تاخیر صرف تکنیکی وجوہات کی بنا پر ہے۔ اس پیش رفت کے بعد گروپ ون امیدواروں میں بے چینی پائی جا رہی ہے، کیونکہ ہزاروں امیدوار اس فیصلے کے منتظر ہیں۔
اس سے قبل متعدد امیدواروں نے ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے گروپ ون بھرتی عمل میں سنگین خامیوں کا الزام عائد کیا تھا۔ درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ امتحان کے انعقاد، جوابی پرچوں کی جانچ اور بایومیٹرک نظام کے نفاذ میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔
ان درخواستوں کی سماعت کے بعد سنگل بنچ نے ایک اہم فیصلے میں گروپ ون کے نتائج منسوخ کر دیے تھے۔ عدالت نے ہدایت دی تھی کہ ضرورت پڑنے پر جوابی پرچوں کی دوبارہ جانچ یا نیا امتحان لیا جائے، جبکہ تمام تقرریوں پر روک بھی لگا دی گئی تھی۔
اپیل اور عبوری تقرریاں | Group-1 Appointments
سنگل بنچ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے تلنگانہ پبلک سروس کمیشن اور منتخب امیدواروں نے ڈویژن بنچ میں اپیل دائر کی۔ اپیل کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کی قیادت میں بنچ نے تقرریوں پر عائد روک ہٹا دی اور عبوری احکامات جاری کیے۔
ان احکامات کے بعد ریاستی حکومت نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 562 منتخب امیدواروں کو تقرری کے خطوط جاری کر دیے۔ تاہم عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ تقرریاں حتمی فیصلے سے مشروط ہوں گی اور ان سے منتخب امیدواروں کے حق میں کوئی مستقل حق پیدا نہیں ہوگا۔
5 فروری کا فیصلہ اہم | Group-1 Appointments
عدالت نے کہا ہے کہ 5 فروری کو سنائے جانے والے فیصلے سے یہ طے ہوگا کہ خدمات انجام دینے والے امیدواروں کی تقرریاں برقرار رہیں گی یا نہیں۔ ساتھ ہی امتحانی جانچ کے طریقہ کار اور بایومیٹرک سے منسلک او ایم آر شیٹس سے متعلق الزامات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
گروپ ون تقرریوں پر آنے والا فیصلہ 562 امیدواروں کے مستقبل پر براہ راست اثر ڈالے گا، جبکہ اس معاملے کو ریاست کی اہم عدالتی پیش رفتوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
