Read in English  
       
Justice Verdict

حیدرآباد ۔ شہر میں نابالغ لڑکی سے متعلق ایک سنگین مقدمے میں عدالت نے ملزم کو عمر قید کی سخت سزا سناتے ہوئے اہم فیصلہ دیا ہے۔ یہ مقدمہ بچوں کے تحفظ سے متعلق قانون کے تحت درج کیا گیا تھا، جس نے شہری سطح پر بھی توجہ حاصل کی۔ مزید برآں اس فیصلے کو انصاف کی فراہمی کی ایک اہم مثال قرار دیا جا رہا ہے۔

پس منظر کے مطابق یہ فیصلہ 13 اپریل 2026 کو نامپلی کی عدالت میں ایڈیشنل سیشن جج ٹی انیتا نے سنایا۔ مقدمے کی تفتیش ایس آر نگر پولیس نے کی، جس کے بعد عدالت میں تفصیلی سماعت عمل میں آئی۔ تاہم کیس کی حساس نوعیت کے باعث تمام کارروائی احتیاط کے ساتھ مکمل کی گئی۔

واقعہ پہلی بار 11 مئی 2024 کو سامنے آیا جب 9ویں جماعت کی ایک طالبہ کو شدید پیٹ درد کے باعث امیرپیٹ کے ایک سرکاری اسپتال میں داخل کیا گیا۔ طبی معائنے کے دوران حمل کی تصدیق ہوئی، اور بعد ازاں اس نے ایک لڑکے کو جنم دیا۔ اس انکشاف کے بعد پولیس نے فوری کارروائی شروع کی۔

تفتیش اور سزا کا عمل | Justice Verdict

تحقیقات کے دوران پولیس نے 26 سالہ ملزم مداکارو سرینواسولو کی شناخت کی۔ حکام کے مطابق ملزم نے پڑوس میں رہائش کے دوران مواقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نابالغ کے ساتھ زیادتی کی۔ مزید یہ کہ شواہد اکٹھا کرنے کے بعد پولیس نے مضبوط مقدمہ عدالت میں پیش کیا۔

استغاثہ نے مقدمے کے دوران الزامات کو مؤثر انداز میں ثابت کیا، جس کے نتیجے میں عدالت نے ملزم کو قصوروار قرار دیا۔ چنانچہ عدالت نے اسے عمر قید کی سزا سنائی اور 10000 روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔ اگر جرمانہ ادا نہ کیا گیا تو 6 ماہ کی اضافی سادہ قید کا حکم دیا گیا ہے۔

متاثرہ کے لیے معاوضہ اور عدالتی ہدایات | Justice Verdict

مزید برآں عدالت نے متاثرہ کو 1000000 روپے بطور معاوضہ ادا کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔ اس اقدام کا مقصد متاثرہ کو مالی اور قانونی مدد فراہم کرنا ہے۔ دریں اثنا حکام نے اس فیصلے کو انصاف کے عمل میں اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

آخر میں یہ مقدمہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور عدالتی نظام ایسے حساس معاملات میں سنجیدگی سے کام کر رہے ہیں۔ لہٰذا شہریوں کو بھی چاہیے کہ وہ ایسے واقعات کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ حکام کو دیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔