حیدرآباد: تلنگانہ حکومت نے مقامی اداروں کے انتخابات کے لیے دو بچوں کے قانون کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد تین بچوں والے افراد بھی اب الیکشن لڑ سکیں گے۔
یہ فیصلہ کابینہ اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے جمعرات کو سیکرٹریٹ میں کی۔
تعلیمی اور زرعی اقدامات | Cabinet Decisions
پرانے قانون کے تحت دو سے زیادہ بچوں والے امیدوار مقامی اداروں کے انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے تھے۔
اب اس قانون کی منسوخی کے بعد شہریوں کی بڑی تعداد کو مقامی سطح پر نمائندگی کا موقع ملے گا۔
وزیر پونگلیٹی سرینواس ریڈی نے میڈیا کو بتایا کہ کابینہ نے کئی دیگر اہم فیصلے بھی منظور کیے ہیں۔
کابینہ نے ریاست میں تین نئے زرعی کالج قائم کرنے کی منظوری دی ہے تاکہ کسانوں کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
ساتھ ہی، نلسار یونیورسٹی میں 50 فیصد نشستیں مقامی طلبا کے لیے مختص کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
نلسار کو توسیع کے لیے مزید سات ایکڑ اراضی بھی دی جائے گی۔
علاوہ ازیں، حکومت نے اعلان کیا کہ ریاست میں پیدا ہونے والے تمام دھان کو حکومت خود خریدے گی، چاہے مرکز خریداری کرے یا نہ کرے۔
باریک چاول کے کسانوں کو کم از کم امدادی قیمت کے ساتھ بونس بھی دیا جائے گا۔
ترقیاتی منصوبے اور جشن | Cabinet Decisions
کابینہ نے فیصلہ کیا کہ موجودہ حکومت کے دو سال مکمل ہونے پر ریاست بھر میں عوامی تقریبات منعقد کی جائیں گی۔
ان تقریبات کے انتظامات کے لیے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔
مزید برآں، چیف سکریٹری کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے جو حیدرآباد میٹرو پراجیکٹ کے دوسرے مرحلے کے منصوبوں کا جائزہ لے گی اور انہیں حتمی شکل دے گی۔
کابینہ کے حالیہ فیصلے حکومت کی اصلاحات اور شفاف طرزِ حکمرانی کی سمت ایک اہم قدم سمجھے جا رہے ہیں۔
دو بچوں کے قانون کی منسوخی سے عوامی نمائندگی کے دائرے میں اضافہ اور مقامی جمہوریت کے فروغ کی امید کی جا رہی ہے۔
