Read in English  
       
Fuel Cost Burden

حیدرآباد ۔ سی پی آئی کی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن کے نارائنا نے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور ریلوے و ہوائی خدمات میں نافذ متحرک کرایہ نظام پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے ان پالیسیوں کو عوام مخالف قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے عام شہریوں پر اضافی مالی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ مزید یہ کہ انہوں نے موجودہ معاشی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کی۔

جمعہ کے روز میڈیا سے بات کرتے ہوئے کے نارائنا نے الزام لگایا کہ ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عوامی مشکلات میں اضافہ کر رہا ہے۔ ان کے مطابق عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال جنگی پالیسیوں اور بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی کے باعث مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ عالمی طاقتیں تنازعات کو فروغ دے رہی ہیں جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ لہٰذا اس کے براہ راست اثرات عام شہریوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔

عوامی اخراجات میں اضافہ | Fuel Cost Burden

کے نارائنا نے الزام لگایا کہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں پٹرولیم مصنوعات پر سیس، ٹیکس اور اضافی محصولات کے ذریعے عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق ایندھن کی بڑھتی قیمتیں نقل و حمل کے اخراجات میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔

مزید یہ کہ ٹرانسپورٹ کے بڑھتے اخراجات کے باعث ریلوے کرایوں، فضائی ٹکٹوں اور سامان کی ترسیل کے نرخوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ دریں اثنا ان کا کہنا تھا کہ ضروری اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی ایک اہم وجہ بھی ایندھن کی بڑھتی لاگت ہے۔

انہوں نے کہا کہ عام اور متوسط طبقہ اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ اسی دوران انہوں نے مہنگائی کے وسیع اثرات پر بھی تشویش ظاہر کی۔

متحرک کرایہ نظام پر اعتراض | Fuel Cost Burden

سی پی آئی رہنما نے ریلوے اور فضائی خدمات میں رائج متحرک کرایہ نظام کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق طلب اور بکنگ کے رجحانات کی بنیاد پر کرایوں میں خودکار اضافہ مسافروں کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض رپورٹس کے مطابق حیدرآباد سے تروپتی تک ریلوے ٹکٹ کا کرایہ کئی مواقع پر تقریباً 8,000 روپے تک پہنچ گیا جبکہ عام حالات میں یہ چند سو روپے ہوتا ہے۔

مزید یہ کہ کے نارائنا نے اس نظام کو مارکیٹ قیمتوں کے نام پر منظم لوٹ قرار دیتے ہوئے ایندھن ٹیکس پالیسیوں پر فوری نظرثانی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے عوامی ٹرانسپورٹ میں متحرک کرایہ نظام ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

ان کے مطابق ریلوے خدمات کا بنیادی مقصد عوامی فلاح ہونا چاہیے نہ کہ منافع کمانا۔