Read in English  
       
ktr allegations

حیدرآباد: بھارت راشٹرا سمیتی کے ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ نے الزام عائد کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے گزشتہ 2 برسوں میں نام بدلنے کے سوا کوئی قابلِ ذکر کام نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت منظم طریقے سے سکندرآباد کی شناخت کو نشانہ بنا رہی ہے، جس سے عوام میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔

تلنگانہ بھون میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ حکومت نے ٹی ایس کا نام بدل کر ٹی جی رکھ دیا، مگر اس تبدیلی سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ تلنگانہ تلّی کی علامت کو بدل کر کانگریس طرز کی علامت نافذ کی گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے ریاستی نشان سے کاکتیہ کلا تھورانم کو بھی ہٹا دیا ہے، جبکہ چارمینار کو ہٹانے کی باتیں بھی کی جا چکی ہیں، جو ریاست کے وقار کے خلاف ہیں۔

ترقی کے بجائے شناخت پر وار | ktr allegations

کے ٹی راما راؤ نے سوال کیا کہ آیا گزشتہ 2 برسوں میں حیدرآباد میں ایک بھی نئی سڑک یا فلائی اوور تعمیر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار ہمیشہ مستقل نہیں رہتا اور تاریخ کانگریس قیادت کو سکندرآباد کی شناخت کو نقصان پہنچانے والوں کے طور پر یاد رکھے گی۔

انہوں نے کہا کہ سکندرآباد کی شناخت مٹانے کی کوششوں کے خلاف ہی ایک پرامن ریلی کا اعلان کیا گیا تھا، جس میں مختلف طبقات کے افراد نے شرکت کا ارادہ ظاہر کیا۔ ان کے مطابق یہ ریلی کسی ایک جماعت تک محدود نہیں تھی، بلکہ منتظمین نے بی آر ایس سمیت تمام جماعتوں کو مدعو کیا تھا، جس کے بعد عوامی نمائندوں نے یکجہتی کے لیے تیاری کی۔

گرفتاریاں تحریک کو نہیں روک سکتیں | ktr allegations

کے ٹی راما راؤ نے الزام لگایا کہ حکومت نے شہر بھر میں گرفتاریاں کر کے عوام کو پرامن ریلی میں شامل ہونے سے روکا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تلنگانہ بھون میں موجود بی آر ایس قائدین کو بھی حراست میں لیا گیا اور مختلف مقامات پر ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ان کے مطابق حکومت جمہوری آوازوں کو دبانے میں خوشی محسوس کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بی آر ایس عدالت سے رجوع کرے گی اور قانونی اجازت کے بعد ریلی دوبارہ منعقد کی جائے گی۔ انہوں نے تمام گرفتار افراد کی غیر مشروط رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔ آخر میں کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ پارٹی سکندرآباد کے عوام کے جذبات کا احترام کرتی ہے اور ان کی شناخت کے تحفظ کی جدوجہد جاری رکھے گی۔

ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ کے چندرشیکھر راؤ نے انتظامیہ کو عوام کے قریب لانے کے لیے نئے اضلاع، منڈل اور ریونیو ڈویژنز قائم کیے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس حکومت نے حیدرآباد کو 4 سے بڑھا کر 6 زونز میں تقسیم کیا، مگر کبھی شہر کی شناخت کو نقصان نہیں پہنچایا۔ انہوں نے موجودہ حکومت پر اضلاع کو ختم کرنے کی سازش کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ نام بدلنے کے بجائے ترقی پر توجہ دی جائے۔