Read in English  
       
Student Murder

حیدرآباد ۔ سکندرآباد کے چلکل گوڑہ علاقے میں بی ٹیک کے ایک طالب علم کے بہیمانہ قتل کے بعد شدید کشیدگی پیدا ہو گئی۔ پولیس کے مطابق 23 سالہ نوجوان یاون کو جمعرات کی دیر رات ایک عوامی سڑک پر حملہ آوروں نے گھیر کر متعدد مرتبہ چاقو مارا۔ مزید برآں اس واقعے نے مقامی علاقوں میں خوف اور بے چینی کی فضا پیدا کر دی ہے۔

پولیس نے مقتول کی شناخت تیسرے سال کے بی ٹیک طالب علم یاون کے طور پر کی ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق چند نوجوانوں نے مبینہ طور پر اسے راستے میں روک کر حملہ کیا۔ تاہم اہل خانہ کا الزام ہے کہ یہ قتل سیتا پھل منڈی کی ایک لڑکی کے ساتھ محبت کے تعلقات کے باعث انجام دیا گیا۔

رشتہ داروں کے مطابق یاون کو 17 مرتبہ چاقو گھونپا گیا جن میں سر اور گردن پر بھی گہرے زخم شامل تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ لڑکی کے بھائی پرمیش، بہنوئی سائی اور 4 دیگر افراد نے تعلقات کا علم ہونے کے بعد قتل کی منصوبہ بندی کی۔ اسی دوران پولیس بھی محبت کے تنازع کو ممکنہ محرک قرار دے رہی ہے۔

قتل کے بعد سیتا پھل منڈی میں احتجاج | Student Murder

واقعے کے بعد یاون کے اہل خانہ نے لڑکی کے گھر کے باہر احتجاج کرتے ہوئے انصاف کا مطالبہ کیا۔ کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب کچھ افراد نے گھر کا مقفل گیٹ توڑنے کی کوشش کی، تاہم وہاں تعینات پولیس اہلکاروں نے انہیں روک دیا۔ مزید یہ کہ علاقے میں اضافی پولیس نفری بھی تعینات کی گئی۔

چلکل گوڑہ پولیس کے مطابق اس کیس میں اب تک 4 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے جبکہ 2 دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کر دی ہے۔ حکام کے مطابق تمام پہلوؤں سے معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

آڈیو کلپ اور سوشل میڈیا پوسٹ کی جانچ | Student Murder

اہل خانہ کا کہنا ہے کہ یاون اور مذکورہ لڑکی گزشتہ 4 برس سے ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے، تاہم تقریباً ایک سال سے دونوں کے درمیان رابطہ منقطع تھا۔ اس کے باوجود خاندان نے الزام لگایا کہ حملہ آوروں نے پہلے نگرانی کی اور پھر حملہ کیا۔ ان کے مطابق 6 افراد نے پہلے گھر میں ٹی وی دیکھتے ہوئے یاون پر حملہ کیا اور بعد میں سڑک تک تعاقب کرکے اسے چاقو مارے۔

رشتہ داروں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایک ملزم سائی یادو نے قتل کے بعد اسنیپ چیٹ پر سیلفی اسٹیٹس بھی اپ لوڈ کیا۔ اسی دوران ایک مبینہ آڈیو کلپ بھی سامنے آیا ہے جس میں لڑکی نے یاون کو خبردار کیا تھا کہ اس کے گھر والے اس پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ آڈیو میں مبینہ طور پر یہ بھی کہا گیا کہ خاندان والے ہراسانی کی شکایت درج کروانے کیلئے اس پر دستخط کا دباؤ ڈال رہے تھے۔

تحقیقاتی حکام کے مطابق اس آڈیو کلپ کو اہم ثبوت کے طور پر جانچا جا سکتا ہے۔ اہل خانہ نے مطالبہ کیا ہے کہ لڑکی کو پولیس کے سامنے پیش کرکے قتل سے متعلق تمام حقائق سامنے لائے جائیں۔ لہٰذا پولیس معاملے کے ہر ممکن ثبوت کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے۔