حیدرآباد ۔ HYDRAA Demolitions کی کارروائیوں کے دوران ، ہائیڈرا (حیدرآباد ڈیزاسٹر رسپانس اینڈ ایسیٹ پروٹیکشن ایجنسی) کے کمشنر رنگناتھ نے پیر کے دن الزام لگایا کہ زمین پر قبضہ کرنے والوں نے گجولارامارم کے سروے نمبر 302 پر فرضی دستاویزات کے ذریعے قبضے کیے۔
کمشنر نے ہائیڈرا ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دیویندر نگر، بلّیا بستی اور گل پوچما بستی میں قبضے داروں نے غیر قانونی طور پر زمین پر ڈھانچے تعمیر کیے۔ ان کے مطابق، بعض روڈی شیٹرس بھی اس سرگرمی میں شامل تھے۔
رنگناتھ نے بتایا کہ قبضہ کرنے والے 200 تا 300 مربع گز پر کمرہ تعمیر کر کے برقی کنکشن حاصل کرتے تھے۔ اس کے بعد وہ غریب خاندانوں کو وہاں 2,000 روپئے ماہانہ کرایہ پر رکھتے اور بعد میں فرضی پٹّوں کے ذریعے زمین فروخت کر دیتے تھے۔
کمشنر نے کہا کہ حکام نے 900 سے زائد غیر قانونی ڈھانچوں کی نشاندہی کی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ 640 مکانات جن میں لوگ مقیم ہیں انہیں نہیں چھیڑا گیا، بلکہ صرف زیر تعمیر ڈھانچوں اور ان مکانات کو HYDRAA Demolitions کیا گیا جن کے پاس برقی کنکشن نہیں تھے۔
رنگناتھ کی وضاحت اور انتباہ
کمشنر نے متاثرہ خریداروں سے اپیل کی کہ وہ اصل فروخت کنندگان کے نام بتائیں جنہوں نے انہیں دھوکہ دیا۔ ان کے مطابق، قبضہ شدہ زمین تقریباً 300 ایکڑ پر پھیلی ہوئی ہے جس کی مارکیٹ قیمت 15,000 کروڑ روپئے سے زیادہ ہے۔ یہ پورا اسکام فرضی اوکیوپینسی سرٹیفکیٹس کے ذریعے چلایا جا رہا تھا۔
انہوں نے سوشیل میڈیا پر انہدامات کے خلاف تنقید پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہر کوئی اپنی سیاسی رائے رکھنے کے لیے آزاد ہے لیکن عوام کو ہائیڈرا کے خلاف پروپیگنڈہ پر یقین نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، سرکاری اراضی کو واگزار کرانا کبھی آسان نہیں ہوتا اور اس کے لیے سخت کارروائی ضروری ہے۔
