حیدرآباد: قانون ساز کونسل میں ہفتے کے روز حکومتی اور اپوزیشن بنچوں کے درمیان شدید نوک جھونک دیکھنے میں آئی۔ اس ہنگامے کے بعد بھارت راشٹرا سمیتی نے مبینہ یوریا قلت اور کسانوں کو درپیش مسائل کے خلاف احتجاجاً سرمائی اجلاس کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔
اجلاس کے آغاز پر بی آر ایس کے اراکین نے ربیع سیزن کے دوران یوریا کی مبینہ کمی پر فوری بحث کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست بھر میں کسان کھاد کی دکانوں کے باہر طویل قطاروں میں کھڑے ہونے پر مجبور ہیں۔
کسانوں کو مشکلات کا الزام | Farmer Protest
بی آر ایس کے اراکین قانون ساز کونسل نے کہا کہ حکومت کی جانب سے متعارف کرائی گئی یوریا ایپ زمینی سطح پر کسانوں کے لیے مشکلات کا سبب بن رہی ہے۔ اسی بنیاد پر انہوں نے ایوان سے مطالبہ کیا کہ معاملے کو بلا تاخیر زیر بحث لایا جائے۔
اراکین نے کونسل کے چیئرمین گٹہ سکھندر ریڈی سے بھی شکایت کی اور الزام لگایا کہ اپوزیشن کی بات کے دوران مائیک بند کر دیے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق اس طرزِ عمل سے عوامی مسائل ایوان میں اٹھانے کا موقع سلب کیا جا رہا ہے، جس کے خلاف بطور احتجاج پورے سرمائی اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا گیا۔
حکومت کی تردید اور الزامات | Farmer Protest
بی آر ایس کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے وزیر زراعت تملّا ناگیشور راؤ نے ریاست میں یوریا کی کسی بھی قسم کی قلت سے صاف انکار کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے کھاد کی وافر فراہمی کو یقینی بنایا ہے اور گزشتہ برس کے مقابلے میں زیادہ ذخائر موجود ہیں۔
وزیر نے الزام لگایا کہ بی آر ایس سیاسی فائدے کے لیے غلط دعوے کر رہی ہے۔ ان کے مطابق ایوان کی کارروائی میں جان بوجھ کر خلل ڈالا گیا اور کسانوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔
