حیدرآباد: تلنگانہ میں سائبر فراڈز نے نیا رُخ اختیار کر لیا ہے۔ پہلے جہاں جعلی کلاسیفائیڈ ایڈ کے ذریعے لوگوں کو نشانہ بنایا جاتا تھا، اب دھوکے باز سرمایہ کاری اور آن لائن ٹریڈنگ کے جال بُن کر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شہریوں کو پھنسا رہے ہیں۔ پولیس کے مطابق گزشتہ آٹھ ماہ میں ریاست بھر کے 14,739 افراد کو ان اسکیموں میں پھنسایا گیا اور تقریباً 606.40 کروڑ روپئے کا نقصان ہوا۔ یہ واقعات Cyber Frauds Telangana کے بڑھتے ہوئے رجحان کو ظاہر کرتے ہیں۔
جعلی گروپس اور ٹریڈنگ لنکس
دھوکے باز واٹس ایپ، ٹیلی گرام اور ایکس پر گروپس بنا کر ان میں جعلی پروفائلز شامل کرتے ہیں۔ وہ مشہور ٹریڈنگ پلیٹ فارمز کے نام پر لنکس شیئر کرتے ہیں اور اپنے منافع کے جعلی اسکرین شاٹس پیش کرتے ہیں۔ ابتدا میں متاثرین کو 15 فیصد منافع دکھایا جاتا ہے اور جزوی رقم نکلوانے کی اجازت دی جاتی ہے تاکہ اعتماد قائم ہو۔ بعد میں مزید سرمایہ کاری کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے۔
آسان کمائی کا لالچ
ایک اور طریقہ یہ ہے کہ لوگوں کو بتایا جاتا ہے کہ وہ بڑی کمپنیوں جیسے ایمیزون کی مصنوعات کو ریویو کریں۔ فی کلک 200 روپئے کا لالچ دے کر خواتین اور نوجوانوں کو پھنسایا جاتا ہے۔ تاہم، رقم نکالنے کے لیے بار بار نئی ڈپازٹس طلب کی جاتی ہیں۔
ورچوئل اکاؤنٹس اور جعلی ریکارڈ
Cyber Frauds Telangana کرنے والے جعلی ویب سائٹس تیار کرتے ہیں جن پر متاثرین کو لاگ ان آئی ڈی اور پاس ورڈ دیا جاتا ہے۔ ان سائٹس پر فرضی بینک اسٹیٹمنٹس اور ادائیگی کی رسیدیں دکھائی جاتی ہیں۔ ورچوئل اکاؤنٹس میں لاکھوں روپئے کی بیلنس رقم نظر آتی ہے لیکن نکالنے پر رکاوٹ ڈال دی جاتی ہے۔ بعض اوقات یہ کہا جاتا ہے کہ آر بی آئی کے قوانین کے مطابق ٹیکس پہلے ادا کرنا ہوگا۔ آخرکار، متاثرہ افراد کے نمبرز بلاک کر کے اکاؤنٹس بند کر دیے جاتے ہیں۔
بڑا کیس: آئی ٹی ملازم کا نقصان
ایک بڑا واقعہ چندانگر کے ایک نوجوان کے ساتھ پیش آیا۔ سائبر مجرموں نے اسے ٹیلی گرام گروپ VIP 263 میں شامل کیا۔ اس نے پہلے 50,000 روپئے جمع کر کے 6.62 فیصد منافع دیکھا۔ مطمئن ہو کر اس نے مزید سرمایہ کاری کی۔ وقت کے ساتھ فراڈ کرنے والوں نے کمیشن اور ٹیکس کے نام پر اس سے 3.31 کروڑ روپئے ہتھیا لیے۔ جب اس نے رقم نکالنے کی کوشش کی تو اکاؤنٹ بلاک کر دیا گیا۔
سائبر سکیورٹی بیورو کی انتباہ
سائبر سکیورٹی بیورو ڈائریکٹر شکھا گوئل نے کہا کہ سرمایہ کاری کے دھوکے اب سب سے زیادہ نقصان دہ قسم کے سائبر جرائم بن گئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ لوگ زیادہ منافع کی لالچ میں قرض تک لے لیتے ہیں اور پھر بڑی رقوم گنوا بیٹھتے ہیں۔ ان کے مطابق فوری رپورٹنگ ہی نقصان کو کم کرسکتی ہے۔ متاثرین کو چاہیے کہ وہ ہیلپ لائن 1930 پر فون کریں یا این سی آر پی پورٹل پر شکایت درج کریں۔ بروقت اطلاع سے جعلی اکاؤنٹس کو فریز کر کے مزید نقصان روکا جا سکتا ہے۔
