Read in English  
       
UPI Transaction Limit

حیدرآباد: نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا (این پی سی آئی) نے اعلان کیا ہے کہ 15 ستمبر 2025 سے UPI Transaction Limit میں بڑا اضافہ کیا جا رہا ہے تاکہ بڑھتی ہوئی اعلیٰ مالیت کی ڈیجیٹل ادائیگیوں کو آسان بنایا جاسکے۔

نئی حدود اور زمرہ جات

ترمیم شدہ فریم ورک کے مطابق اب کئی زمروں میں فی لین دین حد 5 لاکھ روپئے مقرر کی گئی ہے جبکہ یومیہ حد بعض شعبوں میں 10 لاکھ روپئے تک ہوگی۔ اس میں انشورنس پریمیم، کیپٹل مارکیٹ سرمایہ کاری، سرکاری ای-مارکیٹ پلیس (GeM) ٹرانزیکشنز اور سفری بکنگ شامل ہیں۔

کریڈٹ کارڈ بل کی ادائیگی کے لیے فی لین دین حد 5 لاکھ روپئے اور یومیہ حد 6 لاکھ روپئے رکھی گئی ہے۔ زیورات کی خریداری پر بھی یہی حدود لاگو ہوں گی۔ مرچنٹ اور بزنس ادائیگیوں کے لیے فی لین دین 5 لاکھ روپئے کی اجازت ہوگی تاہم یومیہ کوئی پابندی نہیں ہوگی۔

اس کے علاوہ بیرونی زرمبادلہ کی خوردہ ٹرانزیکشنز بی بی پی ایس کے ذریعے 5 لاکھ روپئے تک ممکن ہوں گی جبکہ ڈیجیٹل اکاؤنٹ کھولنے کے لیے فی لین دین 5 لاکھ اور یومیہ 2 لاکھ روپئے تک فنڈنگ کی اجازت ہوگی۔ تاہم پیئر ٹو پیئر ٹرانسفر پر پرانی حد یعنی 1 لاکھ روپئے برقرار رہے گی۔

این پی سی آئی کا مؤقف

این پی سی آئی کے مطابق بڑھتی ہوئی مانگ کو دیکھتے ہوئے بڑی مالیت کی ادائیگیوں کے لیے مزید سہولت فراہم کرنا ضروری تھا۔ اس فیصلے سے افراد اور کاروبار دونوں باآسانی بڑی ٹرانزیکشنز انجام دے سکیں گے۔

بھیم کے آفیشل اکاؤنٹ نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر پوسٹ کیا کہ 15 ستمبر سے صارفین انشورنس پریمیم اور کیپٹل مارکیٹ جیسے زمروں میں 24 گھنٹوں کے اندر 10 لاکھ روپئے تک کی ٹرانزیکشنز کر سکیں گے۔

ڈیجیٹل معیشت کی جانب ایک قدم

یو پی آئی، جو این پی سی آئی کے تحت ریزرو بینک آف انڈیا کی نگرانی میں تیار کیا گیا ہے، فوری طور پر بینک کھاتوں کے درمیان رقم منتقل کرنے کا ذریعہ ہے۔ نئی UPI Transaction Limit سے صارفین بڑی رقم ایک ہی بار میں منتقل کر سکیں گے، بغیر لین دین کو توڑنے یا دوسرے ذرائع استعمال کرنے کے۔ یہ قدم بھارت کی ڈیجیٹل فرسٹ معیشت کی سمت ایک اور سنگ میل سمجھا جا رہا ہے۔