Read in English  
       
RTC Strike Appeal

حیدرآباد ۔ حیدرآباد ڈسٹرکٹ کانگریس کمیٹی کے صدر سید خالد سیف اللہ نے جاری ہڑتال کے تناظر میں آر ٹی سی ملازمین سے خدمات بحال کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے احتجاج ختم کرنا ضروری ہے۔ مزید برآں انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ملازمین کے بیشتر مطالبات پہلے ہی حل کیے جا چکے ہیں۔

جمعہ کے روز انہوں نے مہاتما گاندھی بس اسٹیشن پر ہڑتالی ملازمین سے ملاقات کی اور فوری مذاکرات پر زور دیا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس مرحلے پر ہڑتال جاری رکھنا غیر ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے یونین نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ملازمین کو ڈیوٹی پر واپس آنے کی اپیل کی۔

انہوں نے کہا کہ 32 میں سے 29 مطالبات قابل قبول ہیں اور ان پر عمل درآمد ممکن ہے۔ مزید یہ کہ باقی مسائل، جن میں آر ٹی سی انضمام اور یونین کی منظوری شامل ہیں، کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

مالی اور فلاحی اقدامات | RTC Strike Appeal

سید خالد سیف اللہ نے بتایا کہ اب تنخواہیں ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو ادا کی جا رہی ہیں۔ مزید برآں پی آر سی اور ڈی اے کے بقایاجات بھی ادا کر دیے گئے ہیں۔ نتیجتاً ملازمین کو مالی استحکام حاصل ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2013 بانڈز سمیت پرانے واجبات بھی نمٹا دیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پروویڈنٹ فنڈ کے بقایاجات کو 1205 کروڑ روپے سے کم کر کے تقریباً 600 کروڑ روپے تک لایا گیا ہے۔ مزید یہ کہ سی سی ایس واجبات بھی 690 کروڑ روپے سے کم ہو کر تقریباً 300 کروڑ روپے رہ گئے ہیں جبکہ حکومت ہر ماہ 75 کروڑ روپے ادا کر رہی ہے۔

عوامی مفاد اور خدمات کی بحالی | RTC Strike Appeal

انہوں نے کہا کہ روزگار کے مواقع بھی فراہم کیے جا رہے ہیں اور 4538 تقرریاں جاری ہیں۔ مزید برآں 1134 ہمدردانہ تقرریاں کی گئی ہیں جبکہ تقریباً 250 برطرف ملازمین کو بحال کیا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل ہڑتال سے ادارے کی بحالی متاثر ہو سکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آر ٹی سی روزانہ تقریباً 65 لاکھ مسافروں کو خدمات فراہم کرتی ہے۔ لہٰذا ہڑتال کے باعث خواتین، طلبہ اور مزدور طبقہ شدید مشکلات کا شکار ہے۔ دریں اثنا انہوں نے اپوزیشن، خصوصاً بھارت راشٹر سمیتی، پر الزام عائد کیا کہ وہ حالات کو مزید خراب کر رہی ہے۔

انہوں نے سیاسی جماعتوں سے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ ایسے حساس حالات میں اشتعال انگیزی سے گریز ضروری ہے۔ مزید برآں انہوں نے ڈرائیور شنکر گوڑ کی موت پر افسوس کا اظہار کیا اور متاثرہ خاندان سے ہمدردی کا یقین دلایا۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ مسائل کا حل صرف مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ نتیجتاً انہوں نے یونینز سے اپیل کی کہ وہ ہڑتال ختم کر کے بات چیت کے عمل کو آگے بڑھائیں۔