Read in English  
       
Bus Accident

حیدرآباد ۔ آندھرا پردیش کے مارکاپورم کے قریب ایک ہولناک سڑک حادثے میں 13 افراد جاں بحق جبکہ کئی دیگر زخمی ہو گئے، جب ایک نجی ٹریولس بس اور ٹپر لاری کے درمیان تصادم کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔ یہ واقعہ جمعرات کی صبح پیش آیا اور چند ہی منٹوں میں بس مکمل طور پر آگ کی لپیٹ میں آ گئی۔ اس سانحے نے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا۔

پس منظر کے مطابق ہری کرشنا ٹریولس کی بس تلنگانہ کے جگتیال سے پامورو جا رہی تھی۔ اسی دوران ایک موڑ پر ٹپر لاری نے بس کو ٹکر مار دی جس کے فوراً بعد آگ لگ گئی۔ مزید برآں، تصادم کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ مسافروں کو سنبھلنے کا موقع بھی نہ مل سکا۔ نتیجتاً متعدد افراد بس میں ہی پھنس گئے۔

حکام کے مطابق 10 مسافر موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ 3 دیگر بعد میں سرکاری جنرل اسپتال میں دوران علاج جانبر نہ ہو سکے۔ اس بس میں تقریباً 30 مسافر سوار تھے، جن میں سے کئی شدید زخمی ہوئے اور کم از کم 5 افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

حادثے کے بعد آگ اور جانی نقصان| Bus Accident

ریسکیو ٹیموں نے زخمیوں کو فوری طور پر مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا، جن میں اونگول کا ریمس اسپتال بھی شامل ہے۔ مزید یہ کہ پولیس اور فائر بریگیڈ کے عملے نے آگ پر قابو پانے کے لیے بھرپور کوشش کی، تاہم دونوں گاڑیاں مکمل طور پر جل کر خاک ہو گئیں۔ اس کے نتیجے میں امدادی کارروائیوں میں مشکلات بھی پیش آئیں۔

حکام نے بتایا کہ زیادہ تر لاشیں اس قدر جل چکی ہیں کہ شناخت ممکن نہیں رہی۔ لہٰذا، ٹیمیں متاثرین کی شناخت کے لیے مختلف طریقے استعمال کر رہی ہیں۔ اسی دوران بتایا گیا کہ جاں بحق افراد میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

امدادی اقدامات اور حکومتی ردعمل| Bus Accident

حکام نے متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے کنٹرول روم قائم کر دیا ہے اور ہیلپ لائن نمبر 6304285613، 9985733999 اور 7989537285 جاری کیے گئے ہیں۔ مزید برآں، حادثے کے باعث شاہراہ مکمل طور پر بند ہو گئی جس سے سینکڑوں گاڑیاں پھنس گئیں اور ٹریفک کا نظام متاثر ہوا۔

آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ این چندرابابو نائیڈو نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ضلعی حکام سے بات کرتے ہوئے فوری امدادی اقدامات کی ہدایت دی۔ اسی دوران وزیر داخلہ وی انیتا جائے حادثہ کا دورہ کرنے کے لیے روانہ ہو گئی ہیں۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ حادثہ سڑکوں پر حفاظتی اقدامات کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ لہٰذا، حکام کے لیے ضروری ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔