حیدرآباد ۔ شہر کی ایک عدالت نے شاہ علی بنڈہ پولیس اسٹیشن میں درج چین اسنیچنگ کیس میں ملزم کو 5 سال کی سخت قید اور 25,000 روپے جرمانہ کی سزا سنائی ہے۔ نامپلی میں واقع XVI ایڈیشنل چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ عدالت نے مقدمہ کی سماعت کے بعد ملزم کو قصوروار قرار دیا۔ اس فیصلے کو شہر میں جرائم کے خلاف اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
پولیس کے مطابق ملزم متھو ہری کرشنا نے 24 جولائی 2018 کو ’پاتارکی درگاہ‘ کے قریب ایک خاتون سے سونے کی چین چھین کر فرار ہوگیا تھا۔ واقعہ کے بعد شاہ علی بنڈہ پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کیا۔ مزید برآں پولیس نے تکنیکی اور زمینی شواہد کی بنیاد پر ملزم کو گرفتار کیا۔
تحقیقات میں اہم شواہد | Snatching Conviction
شاہ علی بنڈہ پولیس نے کارروائی کے دوران ملزم کے قبضہ سے مسروقہ سونے کی چین اور نقد رقم برآمد کی۔ اس کیس کی تحقیقات ڈیٹیکٹیو انسپکٹر بی نرسمہا سنجے ریڈی نے انجام دیں۔ انہوں نے عدالت میں مختلف شواہد اور گواہوں کے بیانات پیش کیے جن کی بنیاد پر مقدمہ مضبوط ہوا۔
عدالت نے شواہد کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ملزم کو جرم کا مرتکب قرار دیا۔ مجسٹریٹ جی پربھاکر نے کہا کہ پیش کردہ شواہد اور پولیس تحقیقات جرم ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں۔ لہٰذا عدالت نے ملزم کے خلاف سخت سزا سنائی۔
عدالتی فیصلہ اور سزا | Snatching Conviction
عدالت نے ملزم کو 5 سال کی سخت قید کی سزا سنانے کے ساتھ 25,000 روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے چین اسنیچنگ جیسے جرائم میں ملوث افراد کو سخت پیغام جائے گا۔ مزید یہ کہ شہری علاقوں میں خواتین کے خلاف جرائم پر قابو پانے کے لیے پولیس کارروائیاں جاری رہیں گی۔
پولیس عہدیداروں نے کہا کہ عوامی مقامات پر نگرانی مزید سخت کی جارہی ہے تاکہ اس نوعیت کے واقعات کو روکا جاسکے۔ اسی دوران شہریوں کو بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور مشتبہ سرگرمیوں کی فوری اطلاع دینے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
