Read in English  
       
KTR

حیدرآباد: بی آر ایس کے ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ KTR نے جمعہ کے روز چیف منسٹر اے ریونت ریڈی پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ یوریا کی قلت پر قابو پانے میں ناکام رہے اور اس کے برعکس احتجاج کرنے والے کسانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

کے ٹی آر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سوال اٹھایا کہ کیا حکومت میں اتنی ہمت ہے کہ وہ لاکھوں کسانوں پر مقدمات درج کرے جو یوریا کے بحران پر احتجاج کر رہے ہیں، جسے ان کے مطابق ریونت ریڈی کی نااہلی نے پیدا کیا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ دستور احتجاج کا حق دیتا ہے اور یہی دستور ہے جس پر چیف منسٹر نے حلف لیا تھا۔

یلاریڈی پیٹ کے کسان کا معاملہ

KTR نے یلاریڈی پیٹ کے کسان لکشمن یادو کا حوالہ دیا، جنہوں نے یوریا کی کمی کے سبب فصلیں سوکھنے پر کھلے عام افسوس کا اظہار کیا تھا۔ کے ٹی آر نے سوال کیا کہ کیا صرف اپنا درد بیان کرنے پر حکومت انہیں آدھی رات کو پولیس کے ذریعے ہراساں کر رہی ہے اور جھوٹے مقدمات درج کر رہی ہے؟ انہوں نے اس کارروائی کو غیر قانونی قرار دیا اور کہا کہ یہ چیف منسٹر کی “چھوٹی سوچ کی سیاست” کو ظاہر کرتی ہے۔

کے ٹی آر نے مزید کہا کہ کسان “اندرماں راجم” میں کھاد کے لئے ترس رہے ہیں اور حکومت انہیں احتجاج کا حق تک نہیں دے رہی۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس پر ردعمل ظاہر کریں کیونکہ وہ بار بار دستور کے ساتھ کھڑے رہنے کا دعویٰ کرتے رہے ہیں۔

“بی آر ایس کسانوں کے ساتھ ہے”

حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ ریاست بھر کے احتجاجی کسانوں کو گرفتار کرنا ممکن نہیں۔ ان کے مطابق ریاست کی جیلیں بھی انہیں رکھنے کے لئے ناکافی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ طور پر کہا کہ اگر ریونت ریڈی یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ناراض کسانوں کا سامنا کرنے پر کیا ہوتا ہے تو وہ اپنے پرانے سرپرست سے پوچھ لیں۔

کے ٹی آر نے یقین دلایا کہ بی آر ایس لکشمن یادو سمیت تمام کسانوں کے ساتھ کھڑی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی تلنگانہ کے کسانوں کو آنکھ کا تارہ سمجھ کر ان کا تحفظ کرے گی۔