Read in English  
       
Labour Protest

حیدرآباد ۔ بی آر ایس رہنما ٹی ہریش راؤ نے سدی پیٹ میں بجلی ملازمین کی ہڑتال کی حمایت کرتے ہوئے کانگریس حکومت پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے الیکٹریسٹی ڈی ای دفتر کا دورہ کیا جہاں ملازمین غیر معینہ مدت کی ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔ مزید برآں، اس معاملے نے مزدوروں کے مسائل کو سیاسی سطح پر نمایاں کر دیا ہے۔

ہڑتال میں شامل تلنگانہ الیکٹریسٹی آرٹیزن ایمپلائیز جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے اراکین نے غیر منظم اور پیس ریٹ ملازمین کے مسائل حل کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ طویل عرصے سے ان کے مسائل نظر انداز کیے جا رہے ہیں۔ نتیجتاً، احتجاج میں شدت آتی جا رہی ہے۔

ہریش راؤ نے خطاب کرتے ہوئے الزام لگایا کہ کانگریس حکومت نے اسمبلی انتخابات کے دوران کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے۔ انہوں نے کہا کہ سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کے نام پر وعدے کیے گئے مگر اقتدار میں آنے کے بعد انہیں نظر انداز کر دیا گیا۔ لہٰذا، عوام میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔

مزدوروں کے مطالبات اور حکومت پر تنقید | Labour Protest

انہوں نے کہا کہ بی آر ایس حکومت کے دور میں سابق وزیر اعلیٰ کے سی آر نے قانونی رکاوٹوں کے باوجود 26,000 ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا تھا۔ تاہم، موجودہ حکومت پر انہوں نے الزام لگایا کہ وہ مسائل اٹھانے والے ملازمین کے خلاف پولیس کارروائی کر رہی ہے۔ اس طرح حکومت کا رویہ تنقید کا نشانہ بن رہا ہے۔

انہوں نے آشا، آنگن واڑی اور روزگار گارنٹی اسکیم کے کارکنوں کے مسائل کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ان کے مطالبات اب تک حل نہیں ہوئے۔ مزید یہ کہ انہوں نے سوال اٹھایا کہ وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ نے مظاہرین سے بات چیت کیوں نہیں کی۔

بجلی شعبے کے مسائل اور انتباہ | Labour Protest

ہریش راؤ نے خبردار کیا کہ اگر فوری طور پر بات چیت نہیں کی گئی تو بی آر ایس اپنی تحریک کو مزید تیز کرے گی۔ مزید برآں، انہوں نے تیسرے ڈسکام کے قیام کی تجویز پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اس کا مقصد بہتری کے بجائے کمیشن حاصل کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے ریاست پر مالی بوجھ بڑھے گا۔ اسی دوران انہوں نے بتایا کہ بجلی اسٹورز میں بنیادی آلات کی بھی کمی ہے۔ مزید یہ کہ کسانوں کو 24 گھنٹے بجلی فراہم کرنے کے دعووں کے باوجود 12 گھنٹے بھی بجلی نہیں مل رہی۔

آخرکار، انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مسائل حل نہ ہوئے تو اس کے نتائج کے ذمہ دار وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ ہوں گے۔ لہٰذا، فوری اقدامات ناگزیر قرار دیے گئے ہیں۔