حیدرآباد: ریونت ریڈی نے منگل کے روز امریکہ کی نامور تعلیمی درسگاہ ہارورڈ یونیورسٹی میں اپنی مصروفیات مکمل کر لیں۔ اس دوران انہوں نے مختلف تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے طلبہ اور سابق طلبہ سے متعدد نشستوں میں شرکت کی۔ اس طرح مکالمے کا دائرہ وسیع رہا اور خیالات کا بھرپور تبادلہ ہوا۔
یہ نشستیں کیمبرج-بوسٹن میں ہارورڈ کے کیمپس میں منعقد ہوئیں، جہاں مختلف شعبہ جات اور اسکولوں کے وفود نے وزیر اعلیٰ سے ملاقات کی۔ شرکا نے قیادت، حکمرانی، ترقی، پائیداری، سماجی بہبود اور مستقبل کے معاشی ماڈلز پر سوالات اٹھائے۔ نتیجتاً گفتگو ایک جامع سمت اختیار کر گئی۔
قیادت اور مکالمہ | Global Outreach
ریونت ریڈی نے تلنگانہ کے طویل مدتی ریاستی وژن پر روشنی ڈالی، جو منصفانہ ترقی اور شراکت داروں کو بااختیار بنانے پر مرکوز ہے۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ زراعت، نوجوانوں کی ترقی اور ماحولیاتی ذمہ داری جیسے شعبوں میں عالمی تعاون کے مواقع فراہم کرتا ہے۔
ایک نشست کے دوران طلبہ کے ایک گروپ نے قیادت سے متعلق اسباق پر سوال کیا۔ وزیر اعلیٰ نے عاجزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود کو پروفیسر کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہتے۔ اس کے بجائے انہوں نے باہمی سیکھنے پر مبنی کھلے مکالمے کی حوصلہ افزائی کی، جس سے ماحول مزید تعمیری ہو گیا۔
مستقبل کی سمت | Global Outreach
ریونت ریڈی نے بھارت کے مستقبل پر اعتماد کا اظہار کیا اور تلنگانہ و حیدرآباد کو ترقی پسند ماڈلز کے طور پر پیش کیا۔ اسی لیے انہوں نے بیرون ملک مقیم طلبہ اور پیشہ ور افراد سے اپیل کی کہ وہ بھارت کی ترقی سے جڑے رہیں اور ریاست کے لیے سفیر کا کردار ادا کریں۔
نشستوں کے اختتام پر کئی شرکا نے اپنے نیٹ ورکس، مہارت اور روابط کے ذریعے ریاستی ترقی میں تعاون کا عزم ظاہر کیا۔ یوں یہ دورہ نہ صرف مکالمے بلکہ عملی شراکت داری کی بنیاد بھی بن گیا۔
