Read in English  
       
Congress MPs

نئی دہلی: تلنگانہ Congress MPsنے پیر کو دہلی میں پارلیمنٹ کے سامنے زبردست احتجاج کیا اور الزام لگایا کہ بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت جان بوجھ کر ریاست کے کسانوں کو مکمل یوریا کوٹہ نہیں دے رہی۔ ایم پیز نے پلے کارڈس تھامے نعرے لگائے اور کہا کہ کسانوں کو بحران سے بچانے کے لیے باقی ماندہ کوٹہ فوراً جاری کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست کو 8 لاکھ ٹن یوریا کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن اب تک صرف 5.32 لاکھ ٹن ہی فراہم کیا گیا ہے، یعنی تقریباً 3 لاکھ ٹن کی کمی ہے۔ ایم پیز نے کہا کہ جب تک مکمل فراہمی نہیں ہوتی، وہ احتجاج جاری رکھیں گے۔

پارلیمنٹ کے سامنے مظاہرے کے بعد ایم پیز نے تلنگانہ بھون میں پریس کانفرنس کی، جس میں ملو روی، بلرام نائک، کرن کمار، سریش شیٹکر، انیل کمار اور وامسی کرشنا شامل تھے۔

Congress MPs

ملو روی: کسان دباؤ میں ہیں

ایم پی ملوروی نے کہا کہ دھان کے کاشتکار سب سے زیادہ متاثر ہیں کیونکہ کھیتی کے لیے یوریا نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ ریونت ریڈی اور وزیر زراعت تمّلا ناگیشور راؤ نے پہلے ہی مرکزی وزیر جے پی نڈا سے ملاقات کر کے مطالبہ کیا تھا لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

بلرام نائک: منظم تعصب

ایم پی بلرام نائک نے الزام لگایا کہ یوریا پالیسی میں تلنگانہ کے خلاف منظم تعصب ہے۔ انہوں نے کہا کہ رام گنڈم فیکٹری کی پیداوار مقامی کسانوں کو دینے کے بجائے دوسری ریاستوں کو بھیجی جا رہی ہے۔

کرن کمار: بار بار نمائندگی کے باوجود نظرانداز

کرن کمار نے یاد دلایا کہ وزیراعلیٰ نے جون میں ہی نڈا کو وارننگ دی تھی کہ اگر اگست تک سپلائی نہ ہوئی تو کسانوں کو سخت نقصان ہوگا، لیکن مرکز نے کوئی توجہ نہیں دی۔

سریش شیٹکر: کانگریس حکومتوں سے امتیاز

ایم پی سریش شیٹکر نے الزام لگایا کہ قلت زیادہ تر کانگریس حکمرانی والی ریاستوں، جیسے تلنگانہ اور کرناٹک، میں نظر آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو سیاسی رقابت کی سزا نہیں دی جانی چاہیے۔

Congress MPs

انیل کمار: بی جے پی ایم پیز کیوں خاموش ہیں؟

انیل کمار نے سوال اٹھایا کہ جب کانگریس ایم پیز بار بار آواز اٹھا رہے ہیں تو بی جے پی ایم پیز خاموش کیوں ہیں؟ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ کسانوں کا ہے، سیاست کا نہیں۔

وامسی کرشنا: بدنیتی اور بدانتظامی

ایم پی وامسی کرشنا نے کہا کہ رام گنڈم پلانٹ کی سالانہ صلاحیت 12 لاکھ ٹن ہے لیکن صرف 9 لاکھ ٹن پر چل رہا ہے، 30 فیصد پلانٹ بند ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پلانٹ کی پیداوار کو تلنگانہ سے باہر بھیجنا کسانوں کے ساتھ “غداری” ہے۔

کانگریس ایم پیز کا عزم

ایم پیز نے کہا کہ جب تک 3 لاکھ ٹن کا بقایا کوٹہ نہیں ملتا، وہ احتجاج جاری رکھیں گے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اگر وزیر سے ملاقات نہ ہوئی تو وہ دفتر کے سامنے دھرنا دیں گے۔