Read in English  
       
Paddy Delay Issue

حیدرآباد ۔ مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ بنڈی سنجے نے تلنگانہ حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ دھان کی خریداری میں تاخیر کے باعث کسان شدید مشکلات کا شکار ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت بروقت خریداری کرنے میں ناکام رہی ہے جس سے کسانوں پر مالی دباؤ بڑھ گیا ہے۔

انہوں نے کوتھاپلی منڈل کے کازی پور میں قائم خریداری مرکز کا دورہ کیا جہاں کسانوں سے براہ راست بات چیت کی۔ کسانوں نے انہیں بتایا کہ وہ کئی دنوں سے اپنی فصل فروخت کرنے کے لیے انتظار کر رہے ہیں۔

مزید برآں کسانوں نے شکایت کی کہ ہر بوری سے 4 سے 5 کلوگرام تک کٹوتی کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق نمی، ضیاع اور معیار کے نام پر یہ کٹوتیاں کی جا رہی ہیں، جبکہ ٹوکن جاری کرنے میں بھی تاخیر ہو رہی ہے۔

کسانوں کی ناراضگی میں اضافہ | Paddy Delay Issue

بنڈی سنجے نے سوال اٹھایا کہ کسانوں کو درپیش مشکلات کے باوجود ریاستی حکومت خاموش کیوں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز ہر دانے کی خریداری کے لیے فنڈز فراہم کرتا ہے اور ریاست کو کمیشن بھی ادا کیا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر وزرا خریداری مراکز کا دورہ کریں تو انہیں عوامی غصے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق کسان کاشت سے لے کر فروخت تک ہر مرحلے پر ذہنی دباؤ میں مبتلا ہے۔

اعداد و شمار اور حکومتی ردعمل | Paddy Delay Issue

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس سیزن میں تلنگانہ میں تقریباً 90 لاکھ میٹرک ٹن دھان کی پیداوار متوقع ہے، تاہم اب تک صرف 15 لاکھ میٹرک ٹن کی خریداری کی گئی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ٹوکن جاری کرنے کے نام پر کمیشن لینے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

مزید یہ کہ انہوں نے نمی، ضیاع اور معیار کے نام پر ہونے والی اضافی کٹوتیوں میں ملوث عہدیداروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے کم از کم امدادی قیمت کی مکمل ادائیگی یقینی بنانے پر زور دیا۔

انہوں نے کانگریس حکومت پر الزام لگایا کہ وہ معاشرے کے تمام طبقات کو دھوکہ دے رہی ہے۔ ان کے مطابق مرکز سے فنڈز ملنے کے باوجود ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور ای بی سی طلبہ کے لیے فیس ری ایمبرسمنٹ جاری نہیں کی گئی۔

آخر میں بنڈی سنجے نے سوال کیا کہ حکومت ایک طرف مالی قلت کا دعویٰ کرتی ہے جبکہ دوسری طرف سیاسی سرگرمیوں پر اخراجات بڑھا رہی ہے۔ لہٰذا انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دھان کی خریداری کو جنگی بنیادوں پر تیز کیا جائے۔