حیدرآباد: حیدرآباد کے پولیس کمشنر وی سی سجنار نے زبردستی پیسے وصول کرنے اور عوام کو ہراساں کرنے میں ملوث خواجہ سرا (ٹرانسجینڈرس) افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی وارننگ دی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس قسم کی سرگرمیاں ناقابل قبول ہیں اور قانون ہر صورت نافذ کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ حالیہ مہینوں میں شہریوں کی جانب سے شکایات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان شکایات میں گھروں پر مبینہ مبارک مواقع کے نام پر جا کر رقم طلب کرنے کے واقعات شامل ہیں، جنہیں روکنا ضروری ہے۔
پولیس کمشنر نے خبردار کیا کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کو جیل جانا پڑے گا۔ ان کے مطابق فوجداری مقدمات نہ صرف روزگار بلکہ مستقبل کو بھی مستقل نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
Hyderabad Police | خصوصی نشست اور انتباہ
یہ انتباہ امیرپیٹ میں سینٹر فار اکنامک اینڈ سوشل اسٹڈیز کے آڈیٹوریم میں منعقدہ ایک خصوصی نشست کے دوران دیا گیا۔ اس نشست میں تقریباً 250 خواجہ سرا افراد نے شرکت کی۔ پروگرام کی صدارت وی سی سجنار نے کی، جبکہ سی آئی ڈی اور ویمن سیفٹی وِنگ کی ایڈیشنل ڈی جی پی چارو سنہا بھی موجود رہیں۔
اس موقع پر سینئر پولیس افسران نے شرکاء سے براہِ راست بات چیت کی اور ان کے مسائل سنے۔ سجنار نے کہا کہ خواجہ سرا گروپوں کے درمیان باہمی جھگڑے اور بالادستی کی کشمکش اکثر امن و امان کے مسائل کو جنم دیتی ہے۔ ان کے مطابق بعض واقعات میں یہ تنازعات جان لیوا بھی ثابت ہوئے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ تلنگانہ حکومت ریاست بھر میں خواجہ سرا برادری کی فلاح کو ترجیح دے رہی ہے۔ اسی سلسلے میں جلد ایک جامع فلاحی پالیسی متعارف کرانے کی تیاری ہے۔ ساتھ ہی پولیس نے یقین دلایا کہ جو افراد باعزت اور قانونی روزگار اختیار کرنا چاہتے ہیں، انہیں مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا۔
Hyderabad Police | فلاحی اقدامات اور شکایات کا نظام
ایڈیشنل ڈی جی پی چارو سنہا نے کہا کہ ویمن سیفٹی وِنگ نے خواجہ سرا افراد کے مسائل کے حل کے لیے ‘پرائیڈ پلیس’ کے نام سے ایک خصوصی نظام قائم کیا ہے۔ اس کے ذریعے شکایات کو بلا خوف درج کرایا جا سکتا ہے اور فوری کارروائی کو یقینی بنایا جائے گا۔
انہوں نے برادری کے افراد کو غیر قانونی سرگرمیوں سے دور رہنے اور سماج میں وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کا مشورہ دیا۔ بعد ازاں ضلع حیدرآباد کے ٹرانس جینڈر ویلفیئر ایڈیشنل ڈائریکٹر راجندر نے بتایا کہ تلنگانہ میں تقریباً 50,000 خواجہ سرا افراد موجود ہیں۔
ان کے مطابق مرکزی حکومت کی جانب سے جاری شناختی کارڈ فلاحی اسکیموں اور ریزرویشن کے فوائد حاصل کرنے کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کارپوریٹ شعبے میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ قانون کی پاسداری اور فلاحی سہولیات تک رسائی ہی خواجہ سرا برادری کے لیے محفوظ اور باوقار مستقبل کی ضمانت ہے۔ حکومتی تعاون اسی صورت میں مؤثر ثابت ہو سکتا ہے جب معاشرے کے تمام طبقات قانون کے دائرے میں رہ کر آگے بڑھیں۔
*బలవంతపు వసూళ్ళకు పాల్పడితే చర్యలు తప్పవు!!*
*ట్రాన్స్జెండర్లకు హైదరాబాద్ సీపీ సజ్జనర్ హెచ్చరిక*
*సమాజంలో గౌరవప్రదంగా జీవించాలని హితవు*
ప్రజలను ఇబ్బందులకు గురిచేస్తూ.. బలవంతపు వసూళ్లకు పాల్పడితే చట్టపరంగా కఠిన చర్యలు తప్పవని ట్రాన్స్జెండర్లను హైదరాబాద్ పోలీసు కమిషనర్ శ్రీ… pic.twitter.com/nMOQioDDBx
— V.C. Sajjanar, IPS (@SajjanarVC) December 12, 2025
