Read in English  
       
Fake Plate Case

حیدرآباد ۔ چادرگھاٹ پولیس نے ایک شخص کو جعلی نمبر پلیٹ استعمال کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے، جب کہ اس جرم سے جڑی متعدد ٹریفک خلاف ورزیاں بھی سامنے آئیں۔ مزید برآں، ٹریفک پولیس نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے فوری کارروائی کی۔

پس منظر کے طور پر، حیدرآباد ٹریفک پولیس اور چادرگھاٹ پولیس نے مشترکہ طور پر ملزم کی شناخت محمد رفیع الدین کے طور پر کی، جو مادناپیٹ کے کرم گوڑا علاقے کا رہائشی ہے۔ تاہم، پولیس نے اسے 16 اپریل کو گرفتار کیا اور قانونی کارروائی شروع کی۔

پولیس کے مطابق، ملزم کے خلاف بی این ایس کی دفعات 319(2) اور 318(4) کے ساتھ ساتھ موٹر وہیکل ایکٹ کی دفعہ 158 کے ساتھ 177 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ اس کے علاوہ، یہ کارروائی ایک شکایت موصول ہونے کے بعد عمل میں آئی جس میں گاڑی کے رجسٹریشن نمبر کے غلط استعمال کی نشاندہی کی گئی تھی۔

ٹریفک چالان کی غلطی کا سبب | Fake Plate Case

تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ملزم نے اپنی دو پہیہ گاڑی کے اصل نمبر TG11A1698 میں رد و بدل کر کے اسے TG11A1898 میں تبدیل کر دیا تھا۔ نتیجتاً، متعلقہ حکام نے غلطی سے دوسرے گاڑی مالک کے خلاف ٹریفک چالان جاری کر دیے۔

دریں اثنا، متاثرہ شہری شاہین بیگم نے شکایت درج کرائی کہ انہیں بار بار ایسے چالان موصول ہو رہے ہیں جو دراصل ان کی گاڑی سے متعلق نہیں تھے۔ مزید یہ کہ اس غلطی نے انہیں شدید ذہنی اور مالی پریشانی میں مبتلا کیا۔

تکنیکی مدد سے ملزم کی گرفتاری | Fake Plate Case

پولیس نے تکنیکی تجزیے اور مربوط کوششوں کے ذریعے ملزم کا سراغ لگایا اور اسے حراست میں لے لیا۔ اس کے بعد، بی این ایس ایس کی دفعہ 35(3) کے تحت نوٹس جاری کیا گیا جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔

مزید برآں، حیدرآباد ٹریفک پولیس نے واضح کیا کہ جعلی یا تبدیل شدہ نمبر پلیٹ کا استعمال ایک سنگین جرم ہے اور ایسے معاملات میں سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اسی طرح، شہریوں کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مشتبہ سرگرمیوں کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔

آخر میں، پولیس نے عوام کو مشورہ دیا کہ وہ ای-چالان پورٹل، ای میل اور واٹس ایپ ہیلپ لائن کے ذریعے کسی بھی غلط استعمال کی اطلاع دیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔ لہٰذا، شہریوں کے تعاون سے ایسے جرائم پر قابو پایا جا سکتا ہے۔