Read in English  
       
Smart Governance

حیدرآباد ۔ تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے قانون ساز کونسل میں حیدرآباد کی ترقی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریاست صرف گڈ گورننس نہیں بلکہ اسمارٹ گورننس کے اصولوں پر عمل کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے 5 بڑے میٹرو شہر قومی اہمیت رکھتے ہیں اور ہر شہر کو مختلف شہری چیلنجز کا سامنا ہے۔ مزید برآں، انہوں نے دہلی میں آلودگی اور ممبئی میں بارشوں کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے شہری منصوبہ بندی کی اہمیت اجاگر کی۔

انہوں نے حیدرآباد کو جھیلوں اور چٹانوں کا شہر قرار دیتے ہوئے اس کی منفرد شناخت پر زور دیا۔ اسی دوران، انہوں نے واضح کیا کہ جسے آج اولڈ سٹی کہا جاتا ہے، وہ دراصل حیدرآباد کا اصل مرکز ہے، جو تاریخی اور ثقافتی اہمیت رکھتا ہے۔

شہری مسائل اور پالیسی حکمت عملی | Smart Governance

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ شہر کے کئی مسائل انسانی غلطیوں کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ آمدنی میں اضافے کے ساتھ گاڑیوں کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا، جس کے باعث ٹریفک کا دباؤ بڑھ گیا۔ مزید یہ کہ انہوں نے یاد دلایا کہ دباؤ کم کرنے کے لیے ہوائی اڈہ بیگم پیٹ سے شمش آباد منتقل کیا گیا۔

اسی طرح، سکندرآباد ریلوے اسٹیشن پر بھیڑ کم کرنے کے لیے چرلہ پلی ٹرمینل کا قیام عمل میں لایا گیا۔ تاہم، انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ حیدرآباد میٹرو ملک میں دوسرے نمبر سے نویں نمبر پر آ گئی ہے، جس کے باعث اصلاحی اقدامات ناگزیر ہو گئے ہیں۔

ترقیاتی منصوبے اور مستقبل کی حکمت عملی | Smart Governance

وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ حکومت نے شہری مسائل کے حل کے لیے ’کیور، پیور، ریئر‘ پالیسی اپنائی ہے۔ اس کے تحت آلودگی پھیلانے والی صنعتوں کو آؤٹر رنگ روڈ سے باہر منتقل کیا جائے گا اور خالی ہونے والی زمین کو کثیر المقاصد ترقی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ مزید برآں، انہوں نے کہا کہ میٹرو توسیع کے معاملے میں ایل اینڈ ٹی کی عدم دلچسپی کے باعث حکومت نے مرکز کے مشورے سے خود ذمہ داری سنبھالی۔

انہوں نے کہا کہ کنٹونمنٹ کی پابندیوں کے باعث شمالی تلنگانہ سے آنے والے افراد کو مشکلات کا سامنا ہے، جس کے حل کے لیے پنجہ گٹہ، ہائی ٹیک سٹی اور جوبلی ہلز میں ایلیویٹڈ کاریڈورز بنانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ دریں اثنا، شہر کے بڑے چوراہوں پر سگنل فری ٹریفک نظام متعارف کرانے کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔

آخر میں، وزیر اعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ جدید حکمت عملی اور مؤثر منصوبہ بندی کے ذریعے حیدرآباد کو ایک پائیدار اور ترقی یافتہ شہر بنایا جا سکتا ہے۔ لہٰذا، اسمارٹ گورننس مستقبل کی شہری ترقی کا بنیادی ستون ثابت ہو سکتی ہے۔