حیدرآباد: 31 دسمبر کو گیگ ورکرز نے ملک گیر ہڑتال شروع کی، جس میں کمیشن پر مبنی ادائیگی کے نظام کے بجائے 24 ہزار سے 40 ہزار روپئے ماہانہ مقررہ تنخواہ، چھٹیوں اور بنیادی سہولتوں کا مطالبہ کیا گیا۔ اس ہڑتال کے باعث فوڈ اور ای کامرس ڈیلیوریز متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جس سے نئے سال کی تقریبات اور سال کے اختتامی کاروباری سرگرمیوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔
یونینز کے مطابق مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے وابستہ ورکرز اس احتجاج میں شامل ہیں۔ دہلی این سی آر، ممبئی، بنگلورو، حیدرآباد اور پونے جیسے بڑے شہروں میں مصروف اوقات کے دوران ڈیلیوری میں تاخیر یا منسوخی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ 31 دسمبر کے آرڈرز پر انحصار کرنے والے تاجروں کو بھی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ ہڑتال تلنگانہ گیگ اینڈ پلیٹ فارم ورکرز یونین، انڈین فیڈریشن آف ایپ بیسڈ ٹرانسپورٹ ورکرز اور گیگ اینڈ پلیٹ فارم سروسز ورکرز یونین کی مشترکہ اپیل پر کی گئی۔
اجرت اور تحفظ کے مطالبات | Gig Strike
نئے سال کی شام فوڈ اور گروسری ڈیلیوری کی طلب عام طور پر عروج پر ہوتی ہے، تاہم اس ہڑتال کے باعث لاکھوں صارفین کو مشکلات پیش آنے کا خدشہ ہے۔ یونین قائدین کے مطابق اس احتجاج میں شامل ورکرز کی تعداد کئی لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔
ورکرز نے 10 منٹ ڈیلیوری ماڈل واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے، جسے وہ حادثات کا سبب قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اجرت کا نظام شفاف ہونا چاہیے، جس میں چار کلومیٹر کے لیے 35 روپئے ادائیگی اور 24 ہزار سے 40 ہزار روپئے ماہانہ آمدنی کی ضمانت شامل ہو۔
دیگر مطالبات میں بلا وجہ آئی ڈی بلاکنگ کا خاتمہ، مؤثر شکایتی نظام، حفاظتی سامان، حادثاتی اور صحت بیمہ، پنشن سہولت، رات گئے ڈیلیوری پر حد بندی اور لازمی آرام کے وقفے شامل ہیں۔ ورکرز نے الگورتھم کی بنیاد پر امتیازی سلوک ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
قانون اور عمل درآمد | Gig Strike
یونینز کا کہنا ہے کہ گیگ ورکرز کو “پارٹنر” کے بجائے باقاعدہ “ورکر” کا درجہ دیا جائے اور انہیں مکمل ٹریڈ یونین حقوق حاصل ہوں۔ مرکزی حکومت نے 21 نومبر 2025 سے کوڈ آن سوشل سیکیورٹی نافذ کیا، جس کے تحت پلیٹ فارم کمپنیوں کو اپنے ٹرن اوور کا 1 سے 2 فیصد سوشل سیکیورٹی فنڈ میں جمع کرانا لازم ہے۔
تاہم یونینز کے مطابق یہ شراکت ناکافی ہے اور قانون پر عمل درآمد کمزور ہے۔ اس سلسلے میں مرکزی وزیر محنت منسکھ مانڈویا کو یادداشت بھی پیش کی گئی، مگر ان کے بقول تاحال کوئی براہِ راست جواب نہیں ملا۔
یونین قائدین نے کہا کہ یہ ہڑتال حکومت، کمپنیوں اور یونینز کے درمیان سہ فریقی مذاکرات کی فوری ضرورت کو واضح کرتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ان مطالبات کو نظر انداز کیا گیا تو اس کے اثرات بھارت کی ڈیجیٹل معیشت پر طویل مدت میں پڑ سکتے ہیں۔
