Read in English  
       
Drunk Driving

حیدرآباد: حیدرآباد ٹریفک پولیس نے نشے کی حالت میں گاڑی چلانے والوں کے خلاف کارروائی میں شدت لاتے ہوئے 270 افراد کو عدالتی فیصلے کے بعد جیل بھیج دیا ہے۔ یہ کارروائی شہر بھر میں چلائی گئی ایک خصوصی مہم کے بعد سامنے آئی، جس پر عوامی سطح پر وسیع بحث شروع ہو گئی ہے۔

پولیس نے فیصلہ کیا ہے کہ سزا پانے والے افراد کے دفاتر اور تعلیمی اداروں کو بھی اس بارے میں باضابطہ طور پر اطلاع دی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے محکمے کی جانب سے خط ارسال کیے جائیں گے، جن میں مجرموں کی تفصیلات درج ہوں گی تاکہ متعلقہ ادارے مناسب کارروائی کر سکیں۔

یہ خصوصی مہم 24 دسمبر سے 31 دسمبر 2025 تک چلائی گئی، جس کے دوران نشے کی حالت میں گاڑی چلانے والوں کے خلاف مقدمات درج کر کے انہیں عدالتوں میں پیش کیا گیا۔ پولیس حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد سڑکوں پر نظم و ضبط کو یقینی بنانا تھا۔

خصوصی مہم کے نتائج | Drunk Driving

عدالتی سماعت کے بعد 270 ملزمان کو قصوروار قرار دیتے ہوئے جیل کی سزا سنائی گئی۔ اس کی تفصیلات حیدرآباد ٹریفک کے جوائنٹ کمشنر آف پولیس ڈی جوئل ڈیوس نے جمعرات کو جاری بیان میں فراہم کیں۔

انہوں نے کہا کہ سزا پانے والوں کے دفاتر اور کالجوں کو اطلاع دینے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد قانونی سزا کے ساتھ ساتھ سماجی سطح پر جوابدہی کو بھی فروغ دینا ہے، تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی حوصلہ شکنی ہو۔

سڑکوں کی حفاظت اولین مقصد | Drunk Driving

ڈی جوئل ڈیوس نے واضح کیا کہ محکمہ ٹریفک کا بنیادی ہدف سڑکوں کی حفاظت اور حادثات کی روک تھام ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ دنوں میں بھی اس نوعیت کی خصوصی مہمات جاری رکھی جائیں گی تاکہ عوام میں ذمہ دارانہ ڈرائیونگ کا شعور پیدا ہو۔

ٹریفک پولیس نے خبردار کیا ہے کہ نشے کی حالت میں گاڑی چلانا ایک سنگین جرم ہے اور آئندہ بھی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ حکام کے مطابق قانون شکنی کی صورت میں کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔