Read in English  
       
Housing Ownership

حیدرآباد ۔ تلنگانہ کے وزیر ریونیو، ہاؤسنگ، اطلاعات اور تعلقات عامہ پونگولیٹی سرینواس ریڈی نے اعلان کیا ہے کہ ریاستی حکومت کیور علاقے میں قیمتی سرکاری اراضی پر 1 لاکھ اندراما مکانات تعمیر کرے گی اور مستحق خاندانوں کو ملکیتی حقوق فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں خواتین کو خصوصی ترجیح دی جائے گی تاکہ انہیں معاشی اور سماجی تحفظ حاصل ہو سکے۔

وزیر نے واضح کیا کہ حکومت ان مکانات کو ان علاقوں کے قریب تعمیر کرے گی جہاں غریب خاندان اس وقت مقیم ہیں۔ اس اقدام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ لوگوں کے روزگار اور معمولات زندگی متاثر نہ ہوں جبکہ انہیں بہتر رہائشی سہولتیں بھی میسر آئیں۔

سیکریٹریٹ میں کیور علاقے میں اندراما ہاؤسنگ اسکیم کے نفاذ کا جائزہ لیتے ہوئے پونگولیٹی سرینواس ریڈی نے متعلقہ حکام کو بڑے پیمانے پر رہائشی منصوبے کے لیے جامع عملی منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پہلے ہی مالی سال 2026-27 کے لیے 3.50 لاکھ مکانات کی انتظامی منظوری دے چکی ہے۔

ان میں سے 1 لاکھ اندراما مکانات کیور علاقے میں تعمیر کیے جائیں گے جبکہ مزید 2.50 لاکھ مکانات ریاست کے دیگر علاقوں میں بنائے جائیں گے۔ چنانچہ یہ منصوبہ ریاست بھر میں غریب اور متوسط آمدنی والے خاندانوں کو فائدہ پہنچانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

روزگار کے تحفظ کے ساتھ رہائش | Housing Ownership

پونگولیٹی سرینواس ریڈی نے کہا کہ موجودہ حکومت ماضی کی ہاؤسنگ اسکیموں میں ہونے والی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے نئی حکمت عملی پر عمل کر رہی ہے۔ انہوں نے سابق حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ڈبل بیڈ روم مکانات حیدرآباد سے 30 سے 40 کلومیٹر دور تعمیر کیے گئے تھے، جہاں منتقل ہونے سے غریب خاندانوں کے روزگار کے مسائل پیدا ہوئے۔

ان کے مطابق یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں اور چھوٹے تاجروں کی بڑی تعداد شہر کے اندر روزگار کے مواقع پر انحصار کرتی ہے۔ نتیجتاً دور دراز رہائشی کالونیوں میں منتقل ہونے والے کئی خاندانوں کو معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ ان مکانات کی وجہ سے روزگار، تعلیم، صحت اور آمدورفت سے متعلق متعدد مسائل پیدا ہوئے۔ اسی لیے بہت سے مستحقین نے وہاں منتقل ہونے میں دلچسپی نہیں دکھائی اور کئی مکانات خالی رہ گئے۔

لہٰذا موجودہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ نئے اندراما مکانات انہی علاقوں کے قریب تعمیر کیے جائیں جہاں مستحق خاندان پہلے سے رہائش پذیر ہیں۔ اس طرح وہ اپنے روزگار کو برقرار رکھتے ہوئے بہتر رہائشی سہولتوں سے بھی فائدہ اٹھا سکیں گے۔

خواتین کو مضبوط معاشی تحفظ | Housing Ownership

وزیر نے کہا کہ حکومت اس منصوبے کے لیے قیمتی سرکاری اراضی استعمال کرے گی اور مستحقین کو ان جائیدادوں میں شراکت دار بنایا جائے گا۔ مزید برآں مکانات کی ملکیت بنیادی طور پر غریب خاندانوں کی خواتین کو دی جائے گی۔

پونگولیٹی سرینواس ریڈی کے مطابق خواتین کو مکانات کی ملکیت دینے سے ان کی معاشی خودمختاری اور سماجی تحفظ میں اضافہ ہوگا۔ ساتھ ہی یہ اقدام خواتین کو بااختیار بنانے، خاندانی استحکام کو فروغ دینے اور آنے والی نسلوں کی ترقی میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔

انہوں نے حکام کو ہدایت دی کہ مکانات کے ڈیزائن مستحقین کی ضروریات کے مطابق تیار کیے جائیں۔ مزید یہ کہ ہر رہائشی یونٹ کا کم از کم تعمیر شدہ رقبہ 400 مربع فٹ رکھا جائے تاکہ کم آمدنی والے خاندان آرام دہ اور باوقار زندگی گزار سکیں۔

وزیر نے زور دیا کہ مکانات کی تعمیر میں سہولت، معیار اور عوامی ضروریات کو ترجیح دی جائے۔ ان کے مطابق رہائشی منصوبہ صرف چھت فراہم کرنے تک محدود نہیں بلکہ لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کا ایک جامع اقدام ہے۔

جائزہ اجلاس میں ہاؤسنگ سیکریٹری وی پی گوتم اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔ اجلاس کے دوران منصوبے کے مختلف پہلوؤں، تعمیراتی معیار اور نفاذ کے طریقہ کار پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

نتیجتاً حکومت کا یہ منصوبہ غریب خاندانوں کو بہتر رہائش فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ خواتین کو جائیداد کی ملکیت دے کر سماجی اور معاشی استحکام کو بھی فروغ دے گا۔ اسی بنا پر اسے ریاست میں عوامی فلاح و بہبود اور خواتین کی بااختیاری کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔