Read in English  
       
RTC Merger

حیدرآباد ۔ تلنگانہ حکومت نے آر ٹی سی ملازمین سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کے سلسلے میں اہم سطح پر مشاورت کا آغاز کر دیا ہے۔ طویل عرصے سے زیر التوا ملازمین کے مسائل اور آر ٹی سی کو ریاستی حکومت میں ضم کرنے کی مجوزہ تجویز اب دوبارہ توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ مزید برآں حالیہ ملاقاتوں نے اس معاملے کو نئی سیاسی اور انتظامی اہمیت دے دی ہے۔

اسی سلسلے میں وزیر ٹرانسپورٹ پونم پربھاکر نے جمعہ کو حیدرآباد میں واقع منسٹر کوارٹرز میں آر ٹی سی یونین رہنماؤں کے ساتھ ایک اہم اجلاس منعقد کیا۔ ملاقات کے دوران ملازمین کے مسائل، یونین انتخابات اور دیگر انتظامی معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

حکومتی سطح پر نئی سرگرمیاں | RTC Merger

اجلاس میں آر ٹی سی کو حکومت میں ضم کرنے کی مجوزہ تجویز پر خصوصی توجہ دی گئی۔ اس کے علاوہ ٹریڈ یونین انتخابات اور ملازمین سے وابستہ دیگر امور پر بھی یونین نمائندوں کے ساتھ تفصیلی مشاورت ہوئی۔

دریں اثنا گزشتہ ماہ آر ٹی سی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے کارپوریشن کے حکومت میں انضمام اور ملازمین کے مسائل کے حل کے مطالبات کے ساتھ بند کا انعقاد کیا تھا۔ اس اقدام نے آر ٹی سی کے مستقبل پر بحث کو مزید شدت دے دی تھی۔

وزیر اعلیٰ ملاقات کے بعد نئی سمت | RTC Merger

یکم مئی کو آر ٹی سی یونین رہنماؤں نے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی سے ملاقات کی تھی تاکہ کارپوریشن کے مستقبل کے حوالے سے آئندہ لائحہ عمل پر گفتگو کی جا سکے۔ ملاقات کے دوران وزیر اعلیٰ نے یونین قیادت سے دریافت کیا تھا کہ وہ یونین انتخابات کو ترجیح دیتے ہیں یا حکومتی انضمام کو۔

تاہم انہوں نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی رہنماؤں کو ہدایت دی تھی کہ وہ اپنے فیصلے سے باضابطہ طور پر حکومت کو آگاہ کریں۔ اس پر یونین نمائندوں نے متفقہ موقف اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی ترجیح حکومت کے ساتھ انضمام ہے اور وہ یونین انتخابات کے مطالبے سے دستبردار ہونے کے لیے تیار ہیں۔

مزید برآں وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے واضح کیا تھا کہ معاملہ وزیر ٹرانسپورٹ کے علم میں آنے کے بعد ہی اگلے مرحلے کی کارروائی شروع ہوگی۔ انہوں نے یہ یقین دہانی بھی کرائی تھی کہ اجتماعی طور پر طے ہونے والے فیصلے پر عمل کیا جائے گا۔

چنانچہ اس پس منظر میں پونم پربھاکر اور آر ٹی سی یونین رہنماؤں کے درمیان ہونے والی تازہ ملاقات کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔ سیاسی حلقے اور ملازمین اب حکومت کے آئندہ فیصلے پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔