حیدرآباد: آن لائن بیٹنگ ایپس سے متعلق منی لانڈرنگ کی تحقیقات میں ایک نیا موڑ اُس وقت آیا جب انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے ٹیکنالوجی کے معروف پلیٹ فارمز گوگل اور میٹا کو طلب کرلیا۔
دونوں کمپنیوں کو 21 جولائی کو پیش ہونے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ای ڈی کا الزام ہے کہ سندر پچائی اور مارک زکربرگ کی قیادت میں چلنے والے پلیٹ فارمز نے مشتبہ بیٹنگ ایپس کو پیسوں کے عوض اشتہارات، پرائم ویژیبلیٹی، اور سرچ انجن آپٹیمائزیشن کی سہولت فراہم کی، جس سے ان غیر قانونی ایپس کو بڑے پیمانے پر صارفین تک پہنچنے میں مدد ملی۔
حکام کا کہنا ہے کہ گوگل اور میٹا نے ان ایپس کو اشتہارات کی اجازت دے کر بلاواسطہ ان کے پھیلاؤ میں کردار ادا کیا، حالانکہ یہ ایپس قواعد و ضوابط کی نظر میں مشتبہ ہیں اور ان پر ہنڈی لین دین اور دیگر مالی بے ضابطگیوں کے الزامات ہیں۔
ای ڈی کی تحقیقات میں پہلے ہی کئی سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور مشہور شخصیات شامل ہو چکی ہیں جنہوں نے ان ایپس کی تشہیر کی تھی۔ اب ای ڈی کی توجہ ڈیجیٹل اشتہاری ڈھانچے اور اُن پالیسیوں پر مرکوز ہے جن کی بدولت یہ ایپس مقبول ہوئیں۔
یہ پہلا موقع ہے کہ ملک کی مرکزی تفتیشی ایجنسی نے مالی جرائم سے جڑے اشتہارات کے معاملے میں کسی بین الاقوامی ٹیک کمپنی کو طلب کیا ہو۔
