حیدرآباد: فلم نگر پولیس نے ایک 39 سالہ شخص کو گرفتار کر لیا ہے جو دو سال سے سرکاری افسر بن کر شہریوں کو دھوکہ دے رہا تھا۔ بیتھنی ششی کانت نامی ملزم خود کو کبھی ڈپٹی کمشنر آف مائنز، کبھی آئی پی ایس اور کبھی این آئی اے افسر ظاہر کرتا تھا۔ اس کے دعووں پر کئی لوگ یہ سمجھ بیٹھے کہ وہ سرکاری کاموں میں مدد کر سکتا ہے۔
تحقیقات کے مطابق اس نے جعلی شناختی کارڈ تیار کیے تھے جن پر مختلف محکموں کے عہدے درج تھے۔ اس نے جعلی وزٹنگ کارڈز اور سرکاری دستاویزات بھی بنوائے جن سے اس کی شناخت مزید حقیقی محسوس ہوتی تھی۔ تاثر بڑھانے کے لیے اس نے تمل ناڈو سے دو مسلح باڈی گارڈز بھی رکھے تھے، جبکہ ایک پَرسنل گاڑی میں سائرن لگایا اور واکی ٹاکیز کا استعمال کیا۔
دھوکہ دہی کے طریقے اور جعلی کاغذات | Fake Officer
پولیس کے مطابق ملزم نے ایک جعلی TSIIC صنعتی پلاٹ الاٹمنٹ لیٹر بھی گردش میں لایا۔ اسی کی بنیاد پر گولڈ جم کے ایم ڈی علی حسن نے اس پر بھروسہ کر لیا۔ اس نے بینک ٹرانسفر، یو پی آئی اور نقد رقم کے ذریعے کل 10,50,665 روپئے حاصل کیے اور پھر غائب ہو گیا۔ اس واقعے کے بعد متاثرہ فریق نے شکایت درج کرائی۔
افسران نے 25 نومبر 2025 کو خفیہ اطلاع پر کارروائی کی اور ملزم کو شیخ پیٹ کے ایک عارضی ٹھکانے سے پکڑ لیا۔ ابتدائی پوچھ گچھ میں اس کی شناخت اے-1 بیتھنی ششی کانت کے طور پر ہوئی جو اپارنا اورا اپارٹمنٹس میں رہائش پذیر تھا۔ اس کے دو باڈی گارڈز اے-2 پراوین اور اے-3 ومل تاحال مفرور ہیں۔
تحویل میں لی گئی اشیاء اور مزید تحقیقات | Fake Officer
کارروائی کے دوران پولیس نے دو موبائل فون، چھ سم کارڈز، دو واکی ٹاکیز اور ایک جعلی شناختی کارڈ ضبط کیا۔ حکام نے عوام سے اپیل کی کہ مشکوک حرکات یا غیر معمولی سرکاری دعووں کی فوری اطلاع دیں تاکہ ایسے جرائم کی روک تھام ہو سکے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مزید متاثرین سامنے آنے کا امکان موجود ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔
یہ اقدام شہر میں بڑھتی ہوئی جعلسازی کے خلاف پولیس کی تازہ ترین کارروائی ہے، جس سے شہریوں میں احتیاط اور آگاہی مزید بڑھانے کی ضرورت اجاگر ہوتی ہے۔
