حیدرآباد ۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے راجنا سرسلہ ضلع کلکٹر سندیپ کمار جھا پر سخت برہمی ظاہر کی اور ان کے رویے کے ساتھ ساتھ عدالت میں پیشی کے دوران ان کے لباس پر بھی سوال اٹھائے۔ Telangana Collector Controversy کے اس واقعہ میں بنچ نے ریمارک دیا کہ آپ کو دیکھ کر ہی خوف پیدا ہوتا ہے تو عوام کی خدمت کس طرح کریں گے۔
یہ مقدمہ مڈ مانیرُو متاثرہ وانا بٹلا کویتا سے متعلق ہے، جنہیں پہلے ہائی کورٹ نے معاوضہ دینے کا حکم دیا تھا۔ تاہم، مقامی عہدیداروں نے مبینہ طور پر کلکٹر کی ہدایت پر ان کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کیے۔ کویتا نے دوبارہ عدالت سے رجوع کیا جس پر آج سماعت ہوئی۔ کارروائی کے دوران عدالت نے کلکٹر کی پیشی پر اعتراض کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا وہ عدالت کے پروٹوکول سے واقف ہیں۔
عدالت نے ریاستی حکومت اور چیف سکریٹری کو ہدایت دی کہ معاوضے کا سابقہ حکم فوری طور پر نافذ کیا جائے۔ ساتھ ہی پرنسپل ہوم سکریٹری کو کلکٹر کے رویے پر کارروائی کرنے کی ہدایت دی گئی۔
کلکٹر پر پہلے بھی سوالات اٹھے
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جھا کو عدالتی ناراضگی Telangana Collector Controversy کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے قبل بھی اسی مقدمے میں جواب داخل نہ کرنے اور عدالت میں پیش نہ ہونے پر ان کے خلاف وارنٹ جاری کیا گیا تھا۔
علاوہ ازیں 17 ستمبر کو راجنا سرسلہ میں منعقدہ پراجا پلانا تقریب کے دوران بھی تنازعہ پیدا ہوا تھا، جب حکومتی وہپ آدی سرینواس کی شرکت کے موقع پر کلکٹر مبینہ طور پر پروٹوکول پر عمل کرنے میں ناکام رہے۔ اس پر چیف سکریٹری نے کلکٹر کو نوٹس جاری کیا تھا۔
اب جبکہ ہائی کورٹ نے سخت موقف اختیار کیا ہے، سرکاری اور سیاسی حلقوں میں یہ سوال گردش کررہا ہے کہ حکومت کلکٹر کے خلاف کس نوعیت کی کارروائی کرے گی۔
