Read in English  
       
Minority Welfare

حیدرآباد: بھارت راشٹرا سمیتی کے کارگزار صدر کے تارک راما راؤ نے اقلیتی فلاح کے لیے وقف 2026 کے کیلنڈر کی اجرائی عمل میں لائی۔ اس موقع پر انہوں نے بی آر ایس کے دورِ حکومت کی کارکردگی اجاگر کی اور کانگریس حکومت پر وعدے پورے نہ کرنے کا الزام عائد کیا۔

یہ کیلنڈر بی آر ایس کے رہنما شیخ عبداللہ سہیل نے مرتب کیا ہے، جس کی اجرائی تلنگانہ بھون میں کی گئی۔ کیلنڈر میں عیسوی اور ہجری دونوں تاریخیں شامل ہیں، جبکہ اس میں پارٹی صدر اور سابق وزیراعلیٰ کے چندرشیکھر راؤ کے اقوال بھی درج ہیں۔

دس سالہ کارکردگی | Minority Welfare

بی آر ایس کی دس سالہ حکمرانی کا احاطہ کرنے والا یہ کیلنڈر مختلف فلاحی اسکیموں پر روشنی ڈالتا ہے۔ ان میں شادی مبارک، کے سی آر کٹس کی تقسیم، اور ٹمریز کے تحت اقلیتی رہائشی اسکولوں کا قیام شامل ہے۔

اس کے علاوہ ریاستی سطح پر افطار تقریبات، نئے سیکریٹریٹ کمپلیکس میں مساجد کی تعمیر، انیس الغربا کی بحالی، اردو مسکن کی ترقی، اور جامعہ نظامیہ آڈیٹوریم کی تعمیر جیسے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ کیلنڈر میں مسلم طبقے کو دی گئی سیاسی نمائندگی کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔

اس میں محمد محمود علی کی ریاست کے پہلے مسلم نائب وزیراعلیٰ اور بعد ازاں وزیر داخلہ کی حیثیت سے تقرری، مسلم قانون ساز کونسل کے ارکان کی نامزدگی، اور اقلیتی اداروں کی قیادت جیسے اقدامات کا ذکر کیا گیا ہے۔

کانگریس پر تنقید | Minority Welfare

تقریب کے دوران بی آر ایس قائدین نے کیلنڈر کو جامع اور حقائق پر مبنی دستاویز قرار دیا۔ شیخ عبداللہ سہیل نے کہا کہ یہ اقدامات محض علامتی نہیں بلکہ حقیقی بااختیاری کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق بی آر ایس نے اقلیتوں کو عوامی زندگی میں شناخت اور آواز دی۔

انہوں نے وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی کی قیادت والی کانگریس حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اقلیتی منشور کے ایک بھی وعدے پر عمل نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ دو برس میں اقلیتی فلاحی بجٹ کا آدھا بھی خرچ نہیں کیا گیا، اقلیتی سب پلان اب بھی رکا ہوا ہے، اور نوجوانوں کے لیے ایک ہزار کروڑ روپے کی قرض اسکیم فائلوں سے آگے نہیں بڑھ سکی۔

اس موقع پر قانون ساز کونسل کے رکن ڈاکٹر داسوجو شراون اور بی آر ایس کے کئی سینئر قائدین بھی موجود تھے۔