حیدرآباد: شنکر پلی پرائمری ہیلتھ سنٹرShankarpalli PHC میں بارش کے دوران چھت سے پانی ٹپکنے لگا جس کے باعث مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ شنکر پلی میونسپل حدود میں واقع اس چھ بستروں والے اسپتال کی عمارت خستہ حال ہوچکی ہے اور عملے کو بارش کے پانی سے بچاؤ کے لیے وارڈز کے اندر بالٹیاں رکھنی پڑ رہی ہیں۔
مریضوں کے رشتہ داروں نے اس صورتحال پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور الزام عائد کیا کہ یہ بدنظمی حکام کی لاپرواہی اور ٹھیکیدار کی ناقص تعمیر کا نتیجہ ہے۔ ایک تیماردار نے کہا کہ لوگ علاج کے لیے یہاں آتے ہیں لیکن اس حالت میں تو انفیکشن لگنے کا بھی خطرہ ہے، بارش میں وارڈز کی نم اور غیر صحت مند حالت مریضوں کے لیے مزید مسائل کھڑی کر رہی ہے۔
بارہا سیاسی وعدوں کے باوجود یہ اسپتال اب تک صرف چھ بستروں تک محدود ہے۔ ریاست کی تقسیم سے پہلے یہاں 30 بستروں والے اسپتال کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن آج تک پورا نہیں ہوا۔ موجودہ عمارت کے پاس باڑھ کی دیوار تک نہیں ہے جس سے حفاظتی خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔
شنکر پلی پرائمری ہیلتھ سنٹر میں عملے کی کمی بھی سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ یہاں دو ڈاکٹروں کی باقاعدہ منظور شدہ اسامیاں ہیں لیکن صرف ایک ڈاکٹر ڈیوٹی پر ہیں۔ دوسرے ڈاکٹر اور کچھ عملہ حیدرآباد میں تعینات ہیں لیکن ان کی تنخواہیں شنکر پلی کے کھاتے سے جاری ہوتی ہیں۔ اس وجہ سے دیہی علاقوں کے مریض مناسب طبی سہولت سے محروم ہیں۔
مقامی عوام کا کہنا ہے کہ اگرچہ شنکر پلی کو گرام پنچایت سے میونسپلٹی میں ترقی دی گئی ہے لیکن صحت کی بنیادی سہولتوں میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئی۔ عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ حکام فوری طور پر اسپتال کی چھت کی مرمت کریں اور مریضوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے درکار طبی عملہ تعینات کریں۔
