Read in English  
       
Rare Earth Push

حیدرآباد ۔ تلنگانہ کے وزیر جی ویویک وینکٹ سوامی نے نایاب معدنیات کی تلاش کو تیز کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں الیکٹرک گاڑیوں کے شعبے کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں خود کفالت کے لیے ایسے اقدامات ناگزیر ہیں۔ مزید برآں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بدلتی عالمی صورتحال اس ضرورت کو مزید اجاگر کرتی ہے۔

پس منظر کے طور پر انہوں نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کا حوالہ دیا۔ تاہم ان کے مطابق ان عوامل نے توانائی کے تحفظ کے مسائل کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ اسی دوران بھارت کی درآمدات پر انحصار ایک اہم چیلنج کے طور پر سامنے آیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک تقریباً 50 فیصد خام تیل اور 80 فیصد ایل پی جی اسی راستے سے درآمد کرتا ہے۔ مزید یہ کہ خام تیل کی قیمت تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے اور ممکنہ طور پر 80 سے 85 ڈالر کے درمیان مستحکم ہو سکتی ہے۔ علاوہ ازیں ایندھن کی درآمدی لاگت 100 ارب ڈالر سے بڑھ کر 160 ارب ڈالر تک جا سکتی ہے، جس سے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔

الیکٹرک گاڑیاں اور معدنیات کی اہمیت | Rare Earth Push

انہوں نے کہا کہ الیکٹرک گاڑیاں ایندھن پر انحصار کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ مزید برآں نایاب معدنیات نئی ٹیکنالوجیز میں مرکزی حیثیت رکھتی ہیں۔ لہٰذا اس شعبے میں سرمایہ کاری مستقبل کی ضرورت بن چکی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ عالمی سطح پر نایاب معدنیات کی تلاش میں بھارت کا حصہ تقریباً 1 فیصد ہے۔ تاہم معیشت کی 6 سے 7 فیصد ترقی برقرار رکھنے کے لیے اس شعبے میں توسیع ضروری ہے۔ اسی لیے انہوں نے کہا کہ اس سے چین جیسے ممالک پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے۔

ہنر مندی، تعلیم اور مستقبل کی حکمت عملی | Rare Earth Push

انہوں نے نوجوان انجینئروں پر زور دیا کہ وہ اس شعبے میں آگے آئیں۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت اس حوالے سے مکمل تعاون فراہم کرے گی۔ علاوہ ازیں ریاست کا ہدف 2047 تک 3 ٹریلین ڈالر کی معیشت بننا ہے۔

ہنر مند افرادی قوت تیار کرنے کے لیے 65 آئی ٹی آئی اداروں کو ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی مراکز میں تبدیل کیا گیا ہے۔ اس وقت تقریباً 25000 طلبہ زیر تربیت ہیں اور ہر طالب علم کو ماہانہ 2000 روپے وظیفہ دیا جا رہا ہے۔ مزید یہ کہ نئی ٹیکنالوجیز سے متعلق کورسز بھی متعارف کرائے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ معدنیات کی تلاش کے دوران ماحولیاتی تحفظ کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ آخرکار انہوں نے کہا کہ ریاست ٹامکام کے ذریعے ملک اور بیرون ملک روزگار کے مواقع فراہم کر رہی ہے، جس سے نوجوانوں کو فائدہ پہنچے گا۔