حیدرآباد: ملک بھر میں ریاستی حکومتوں اور گورنروں کے درمیان بڑھتی کشیدگی ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ حالیہ ہفتوں میں تمل ناڈو اور کرناٹک میں پیش آنے والے واقعات نے آئینی کردار اور اختیارات کی حدود پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سیاسی اور آئینی ماہرین ان پیش رفتوں کو وفاقی نظام کے لیے اہم قرار دے رہے ہیں۔
تمل ناڈو میں ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ حکومت کا الزام ہے کہ اسمبلی سے منظور شدہ بلوں پر گورنر کی جانب سے فیصلے میں غیر معمولی تاخیر کی جا رہی ہے، جس کے باعث معاملہ ایک بڑے آئینی تنازع کی شکل اختیار کر گیا ہے۔
دوسری جانب کرناٹک میں بجٹ اجلاس کے دوران نیا تنازع سامنے آیا۔ اجلاس کے آغاز پر گورنر نے روایتی خطبہ دینے سے انکار کر دیا۔ بعد ازاں راج بھون کے ذرائع نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے بھیجے گئے مسودہ خطاب کے بعض حصوں پر اعتراض کیا گیا تھا، جن میں مرکز پر تنقید کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔
تمل ناڈو اور کرناٹک کا پس منظر | Governor Disputes
تمل ناڈو میں وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن کی قیادت میں حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ بلوں کو روکے رکھنا جمہوری عمل کے منافی ہے۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ آف انڈیا سے آئینی وضاحت طلب کی گئی ہے۔
کرناٹک میں گورنر تھاور چند گہلوت کے فیصلے نے سیاسی ماحول کو مزید گرما دیا۔ ریاستی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے مرکز اور ریاستوں کے تعلقات میں تناؤ بڑھ سکتا ہے۔
بنڈارو دتاتریہ کا ردعمل | Governor Disputes
ان حالات کے تناظر میں ہماچل پردیش اور ہریانہ کے سابق گورنر بنڈارو دتاتریہ نے جاری تنازعات پر ردعمل دیا۔ انہوں نے کہا کہ گورنرز آئین کے تحت دیے گئے اختیارات کے مطابق کام کرتے ہیں، تاہم اختلافات کو سیاسی تنازع میں تبدیل کرنے سے گریز کیا جانا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسمبلی سے خطاب نہ کرنے جیسے واقعات ہمیشہ تنازع کا سبب نہیں بننے چاہئیں۔ انہوں نے کیرالہ اور تمل ناڈو کی مثال دیتے ہوئے زور دیا کہ گورنرز اور وزرائے اعلیٰ کو باہمی افہام و تفہیم کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق یہی ہم آہنگی بہتر طرز حکمرانی اور آئینی توازن کے لیے ناگزیر ہے۔
