حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ کسی کام کرنے والی بیوی کا باقاعدگی سے کھانا نہ پکانا یا ساس کی خدمت نہ کرنا ظلم کے زمرے میں نہیں آتا اور نہ ہی اسے طلاق کی قانونی بنیاد بنایا جا سکتا ہے۔ عدالت نے اس طرح کے الزامات کو ازدواجی رشتے کے خاتمے کے لیے ناکافی قرار دیا ہے۔
یہ فیصلہ حیدرآباد کے ایل بی نگر سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی جانب سے دائر اپیل کو مسترد کرتے ہوئے سنایا گیا۔ اس سے قبل فیملی کورٹ نے بھی شوہر کی جانب سے طلاق کی درخواست کو خارج کر دیا تھا، جس کے بعد معاملہ ہائی کورٹ پہنچا۔
عدالت کی نظر میں ظلم کی تعریف | Marriage Law
تلنگانہ ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ، جس میں جسٹس موسومی بھٹاچاریہ اور جسٹس ناگیش بھیمپا کا شامل تھے، نے سماعت کے دوران کہا کہ دونوں میاں بیوی ملازمت پیشہ ہیں۔ شوہر دوپہر 1 بجے سے رات 10 بجے تک کام کرتا ہے، جبکہ بیوی صبح 9 بجے سے شام 6 بجے تک ملازمت انجام دیتی ہے۔
عدالت نے کہا کہ ایسی صورت میں بیوی سے یہ توقع رکھنا کہ وہ صبح کے اوقات میں لازمی طور پر کھانا پکائے، غیر معقول ہے اور اسے ظلم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بنچ نے شوہر کے بیانات میں تضاد کی بھی نشاندہی کی، جہاں اس نے مختلف مواقع پر ازدواجی زندگی کی مدت کے بارے میں متضاد دعوے کیے۔
والدین کے گھر قیام اور قانونی موقف | Marriage Law
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اسقاط حمل کے بعد بیوی کا والدین کے گھر قیام فطری عمل ہے اور اسے کسی صورت ظلم نہیں کہا جا سکتا۔ بنچ کے مطابق ایسے حالات میں عورت کا جذباتی اور جسمانی سہارا حاصل کرنا ایک جائز عمل ہے۔
علیحدہ رہائش کے معاملے پر عدالت نے کہا کہ سپریم کورٹ کے بعض فیصلوں میں مخصوص حالات میں علیحدہ رہائش کے اصرار کو ظلم قرار دیا گیا ہے، تاہم ہر معاملہ اپنے حقائق کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے۔ موجودہ کیس میں بیوی کی جانب سے علیحدہ رہائش کا کوئی مطالبہ سامنے نہیں آیا، بلکہ یہ بات صرف قانونی بحث کے دوران کہی گئی تھی۔
عدالت نے نتیجتاً قرار دیا کہ شوہر کے الزامات قانونی طور پر ظلم کے معیار پر پورا نہیں اترتے۔ اسی بنیاد پر ہائی کورٹ نے اپیل مسترد کرتے ہوئے فیملی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔
