حیدرآباد:۔ حیدرآباد ضلع کانگریس کمیٹی (ڈی سی سی) کے صدر سید خالد سیف اللہ نے الیکشن کمیشن آف انڈیا سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر کے بعض علاقوں میں مبینہ طور پر مجلس اتحاد المسلمین کے کارکنوں کی جانب سے ووٹر اندراج فارم تقسیم کیے جانے کے معاملے کی فوری تحقیقات کرائی جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو اس سے ووٹر اندراج کے عمل کی شفافیت پر سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

سید خالد سیف اللہ اور حیدرآباد ڈی سی سی الیکشن کمیشن رابطہ کمیٹی کے چیئرمین راجیش نے مشترکہ بیان میں پیراماؤنٹ کالونی کی امینہ مسجد میں بوتھ نمبر 53 سے 57 کے لیے مبینہ طور پر ووٹر اندراج فارم تقسیم کیے جانے پر اعتراض ظاہر کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ نجی افراد کو ووٹر اندراج فارم تقسیم کرنے کی اجازت کس نے دی اور اس دوران بوتھ لیول افسران کیوں موجود نہیں تھے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض فارموں پر ووٹروں کی تصاویر اور دیگر تفصیلات بھی موجود تھیں۔ ان کے مطابق اگر حساس انتخابی معلومات غیر مجاز افراد کے پاس موجود ہیں تو یہ معاملہ تشویش کا باعث ہے۔ مزید برآں انہوں نے اس بات پر بھی اعتراض کیا کہ بعض رہائشیوں کو ووٹر اندراج کے سلسلے میں مجلس اتحاد المسلمین کے دفتر آنے کے لیے کہا گیا، جبکہ ان کے مطابق بوتھ لیول افسران کو گھر گھر جا کر تصدیقی عمل انجام دینا چاہیے۔

انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات | Voter Inquiry

سید خالد سیف اللہ نے دعویٰ کیا کہ اسی نوعیت کی سرگرمیاں حیدرآباد کے دیگر علاقوں میں بھی جاری ہیں۔ ان کے مطابق اگر ان دعوؤں کی تصدیق ہوتی ہے تو اس سے عوام کا انتخابی عمل پر اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض مسجد کمیٹیوں کے ارکان نے کانگریس رہنماؤں کو بتایا کہ مقامی سیاسی شخصیات کی جانب سے ان پر دباؤ ڈالا گیا۔

انہوں نے کہا کہ عبادت گاہوں کو سیاسی سرگرمیوں یا انتخابی مہم کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے اور ووٹر اندراج و تصدیق کا پورا عمل صرف مجاز انتخابی حکام کے ذریعے انجام دیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی مداخلت ووٹروں میں خدشات پیدا کر سکتی ہے۔

الیکشن کمیشن سے کارروائی کی اپیل | Voter Inquiry

سید خالد سیف اللہ نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ انتخابی سرگرمیوں میں مذہبی اداروں کو شامل کرنے سے گریز کریں۔ انہوں نے الیکشن کمیشن آف انڈیا اور تلنگانہ کے چیف الیکٹورل آفیسر سے مطالبہ کیا کہ معاملے کی مکمل تحقیقات کرائی جائیں، یہ معلوم کیا جائے کہ فارم کس طرح حاصل کیے گئے اور یہ بھی یقینی بنایا جائے کہ بوتھ لیول افسران مقررہ ضابطہ کار کے مطابق اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس اس معاملے پر مسلسل نظر رکھے گی اور ووٹروں کے حقوق اور انتخابی عمل کی شفافیت کے تحفظ کے لیے اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔