Read in English  
       
Medical Innovation Hub

حیدرآباد ۔ تلنگانہ کے وزیر دُدّیلا سریدھر بابو نے کہا ہے کہ ریاست میں طبی آلات کی تیاری کے لیے مضبوط بنیادی ڈھانچہ موجود ہے۔ مزید برآں انہوں نے واضح کیا کہ جینوم ویلی میں قائم میڈیکل ڈیوائسز پارک فوری طور پر آپریشن کے لیے تیار ہے۔ اس پیش رفت سے ریاست کی صنعتی صلاحیت مزید مستحکم ہو رہی ہے۔

پس منظر کے طور پر، منگل کے روز سیکریٹریٹ میں نیدرلینڈز کے میڈٹیک صنعتکاروں اور جامعاتی محققین کے ساتھ ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اس موقع پر وزیر نے ریاستی سہولیات اور صنعتی ماحول پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تلنگانہ تحقیق، مصنوعی ذہانت اور طبی آلات کی تیاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے۔

ریاست پہلے ہی دواسازی، اختراعات اور ویکسین سازی کے شعبوں میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔ مزید یہ کہ کورونا وبا کے دوران یہاں کی بایوٹیک کمپنیوں نے 120 ممالک کو ویکسین فراہم کیں، جو اس کی عالمی سطح پر اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ تاہم حکومت اب اس بنیاد کو مزید وسعت دینے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔

طبی آلات کی تیاری میں نئی رفتار | Medical Innovation Hub

وزیر کے مطابق حکومت تلنگانہ کو طبی آلات کی تیاری کا عالمی مرکز بنانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ اس مقصد کے لیے صنعتوں کو بجلی، پانی اور زمین جیسی بنیادی سہولیات بلا تعطل فراہم کی جا رہی ہیں۔ نتیجتاً سرمایہ کاروں کے لیے ایک مستحکم اور پرکشش ماحول تشکیل پا رہا ہے۔

اسی دوران صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے مواقع بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ان میں امیجنگ سسٹمز، کلینیکل ویلیڈیشن اور ڈیجیٹل ہیلتھ پروفائلز شامل ہیں۔ لہٰذا ٹیکنالوجی اور صحت کا امتزاج ریاست کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتا ہے۔

عالمی اشتراک اور تحقیق کا فروغ | Medical Innovation Hub

تلنگانہ کی ہنر مند افرادی قوت نے پہلے ہی عالمی دوا ساز اور بایوٹیک کمپنیوں کو اپنی جانب متوجہ کیا ہے۔ مزید برآں وزیر نے مقامی جامعات کے ساتھ اشتراک کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ تحقیق اور اختراع کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

اس اجلاس میں نیدرلینڈز کے انوویشن کونسلر یان رینٹ سمت کی قیادت میں ایک وفد شریک ہوا۔ اس کے علاوہ آئی ٹی مشیر آئی سائی کرشنا، ٹی جی آئی آئی سی کے ایم ڈی ششنک، انڈسٹریز کمشنر نکھل چکرورتی، خصوصی سیکریٹری رگھوراما شرما اور تلنگانہ لائف سائنسز کے سی ای او سرویش سنگھ بھی موجود تھے۔ یہ شرکت اس بات کا اشارہ ہے کہ ریاست عالمی شراکت داری کی جانب تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

آخرکار، یہ پیش رفت نہ صرف تلنگانہ بلکہ پورے ملک کے لیے صحت کے شعبے میں ایک نئی سمت متعین کر سکتی ہے۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو مستقبل میں ریاست عالمی طبی صنعت کا اہم مرکز بن سکتی ہے۔