حیدرآباد: تلنگانہ الیکٹروپیتھی پریکٹیشنرز ایسوسی ایشن نے ایشیائی ادارہ برائے الیکٹروپیتھی میڈیکل سائنس کے اشتراک سے پیر کے روز عالمی یومِ الیکٹروپیتھی منایا۔ یہ تقریب الیکٹروپیتھی کے بانی ڈاکٹر کاؤنٹ سیسارے میٹے کی یومِ پیدائش کے موقع پر منعقد کی گئی، جس میں علاج کے اس نباتاتی نظام کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
نامپلی کے ایک نجی ہوٹل میں منعقدہ اس پروگرام میں طلبہ نے اسٹیج پر براہِ راست پیشکش کے ذریعے الیکٹروپیتھی کے بنیادی اصولوں اور طبی افادیت کی وضاحت کی۔ اس پیشکش کو ڈاکٹروں، قانونی ماہرین، اساتذہ اور طلبہ سمیت شرکاء کی جانب سے خوب سراہا گیا۔
قانونی حیثیت اور اعتماد سازی | Electropathy Day
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تلنگانہ ہائی کورٹ کے وکیل ایم اے رحیم خان نے ریاست میں الیکٹروپیتھی کی قانونی حیثیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے حالیہ عدالتی فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قانونی وضاحت سے نہ صرف پریکٹیشنرز بلکہ عوام کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی متبادل طبی نظام کے فروغ کے لیے قانونی تحفظ اور واضح پالیسی نہایت ضروری ہے، تاکہ علاج فراہم کرنے والوں کو بلا خوف خدمات انجام دینے کا موقع مل سکے۔
تحقیق، تعلیم اور عوامی آگاہی | Electropathy Day
ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر ایم اے کریم نے پریکٹیشنرز پر زور دیا کہ وہ تحقیق اور ترقی میں سرمایہ کاری کریں تاکہ الیکٹروپیتھی کی سائنسی بنیاد مزید مضبوط ہو۔ انہوں نے کہا کہ جدید تحقیق ہی کسی بھی نظامِ علاج کو وسیع قبولیت دلا سکتی ہے۔
مہمانِ خصوصی ڈاکٹر رادھا نے طلبہ کو تلقین کی کہ وہ سماجی رابطوں اور آگاہی مہمات کے ذریعے الیکٹروپیتھی کو عام کریں۔ ان کے مطابق مہارت، علم اور تعلیم اس شعبے کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
پروگرام کی نظامت ڈاکٹر ایم اے راقب خان نے کی، جنہوں نے شرکاء کی حوصلہ افزائی کی اور مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ تقریب کی میزبانی ایشیائی ادارہ برائے الیکٹروپیتھی میڈیکل سائنس کے ڈائریکٹرس ڈاکٹر مختار احمد اور سید ریاض احمد نے انجام دی۔
