حیدرآباد: تلنگانہ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ مقامی اداروں کے انتخابات پر حتمی فیصلہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد ہی کیا جائے گا۔ وزیر پونگو لیٹی سرینواس ریڈی نے جمعرات کو سکریٹریٹ میں وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کی زیر صدارت کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ عدالت 42 فیصد پسماندہ طبقات کے ریزرویشن کیس کی سماعت 3 نومبر کو کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ کابینہ 7 نومبر کو دوبارہ اجلاس منعقد کرے گی تاکہ عدالتی فیصلے کی روشنی میں اگلے اقدامات پر غور کیا جا سکے۔ اس دوران کابینہ نے مقامی اداروں کے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے ’’دو بچوں کا اصول‘‘ ختم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔
دو بچوں کا اصول منسوخ، آرڈیننس گورنر کو ارسال | Local Body Elections
کابینہ نے تلنگانہ پنچایت راج ایکٹ 2018 کی دفعہ 21(3) میں ترمیم کی منظوری دی ہے تاکہ دو بچوں کے اصول کو ختم کیا جا سکے۔ اس فیصلے پر پنچایت راج وزیر سیتکّا اور وزیراعلیٰ ریونت ریڈی نے دستخط کر دیے ہیں۔
آرڈیننس کو اب گورنر کے پاس منظوری کے لیے بھیجا جائے گا، جس کے بعد اسے سرکاری طور پر نافذ کر دیا جائے گا۔ اس اقدام کو مقامی سطح پر عوامی نمائندگی کے دائرے کو وسیع کرنے کے لیے اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
توانائی اور صحت کے شعبوں میں بھی بڑے فیصلے | Local Body Elections
کابینہ نے ریاست میں 1,500 میگاواٹ بیٹری انرجی اسٹوریج پروجیکٹ کی منظوری دی اور راما گنڈم تھرمل پاور پلانٹ کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔
اس کے علاوہ، ریاست میں زیرِ تعمیر چار سوپر اسپیشیالٹی اسپتالوں کی تعمیر کو تیز رفتار پر مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی۔
نلگنڈہ کے فلورائیڈ سے متاثرہ علاقوں کے حوالے سے وزیر نے بتایا کہ سابق حکومت نے اس مسئلے کو نظر انداز کیا تھا۔ موجودہ کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ سری سیلم سے نلگنڈہ تک 44 کلومیٹر طویل سرنگ 2026 کے اختتام تک جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مکمل کی جائے گی، جس میں ٹنل بورنگ مشین (TBM) کا طریقہ استعمال نہیں ہوگا۔
