حیدرآباد ۔ ہفتے کے روز موسی ندی میں خطرناک حد تک پانی کی سطح بلند(Musi River Flooding ) ہو گئی۔ عثمان ساگر اور حمایت ساگر سے بھاری مقدار میں پانی چھوڑنے کے بعد ندی نے اطراف کی کئی بستیاں اپنی لپیٹ میں لے لیں۔
لنگر حوض اور باپو گھاٹ کے کچھ حصے مکمل طور پر زیرِ آب آ گئے۔ ایک انڈر فلائی اوور کے نیچے اتنا پانی جمع ہوا کہ علاقہ جھیل جیسا دکھائی دینے لگا۔ مقامی رہائشی خوفزدہ ہو گئے جب پانی زور دار بہاؤ کے ساتھ کالونیوں میں داخل ہوا۔ پولیس نے متاثرہ مقامات پر گشت کرتے ہوئے انتباہ جاری کیا اور شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت دی۔
عثمان ساگر اور حمایت ساگر سے بھاری اخراج
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق عثمان ساگر میں 12,600 کیوسک پانی داخل ہوا جس کے بعد 15 گیٹ نو فٹ تک کھولے گئے اور 13,335 کیوسک پانی موسی ندی میں چھوڑا گیا۔ اسی طرح حمایت ساگر میں 18,500 کیوسک پانی داخل ہوا۔ حکام نے 11 گیٹ آٹھ فٹ تک بلند کر کے 20,872 کیوسک پانی چھوڑا۔ دونوں ذخائر سے ملا کر تقریباً 35,000 کیوسک پانی موسی ندی میں داخل ہوا۔
تیز بہاؤ نے ندی کو پرانا پل، چادر گھاٹ اور موسی رام باغ کے قریب شدید طور پر متاثر کیا۔ Musi River Flooding کی وجہ سے ندی کے کنارے آباد مکینوں نے تشویش ظاہر کی کہ پانی کی سطح خطرناک بلندی تک جا پہنچی ہے۔
