حیدرآباد: حیدرآباد رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے کہا کہ سعودی عرب میں پیش آنے والے بس حادثے میں حیدرآباد کے زائرین کی ہلاکت نے شہر کو غم میں مبتلا کر دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سانحے کی اطلاع ملتے ہی انہوں نے وزارتِ خارجہ سے رابطہ کیا اور متاثرہ خاندانوں کے لیے فوری مدد کی اپیل کی۔
اویسی نے ڈپٹی چیف آف مشن ابو میتن جارج سے رابطہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس رابطے کا مقصد متاثرہ خاندانوں تک درست معلومات پہنچانا اور تمام سرکاری سطحوں پر کارروائی تیز کرنا تھا۔ مزید یہ کہ انہوں نے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر کو بھی خط لکھا اور فوری مداخلت کی درخواست کی کیونکہ اہل خانہ اپنے عزیزوں کی تلاش میں پریشان تھے۔
انہوں نے بتایا کہ دو حیدرآباد کی ٹریول ایجنسیاں زائرین کے سفر کا انتظام کر رہی تھیں۔ اسدالدین اویسی نے دونوں ایجنسیوں سے مکمل فہرست طلب کی اور یہ تفصیلات ریاستی اور مرکزی حکام کو بھیج دی گئیں تاکہ ہر مسافر کی شناخت میں آسانی ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہر متاثرہ خاندان کے لیے فوری ریلیف ضروری ہے۔
متاثرہ خاندانوں کے لیے رابطہ کاری اور تعاون | Pilgrim Aid
انہوں نے واضح کیا کہ معلومات کی فراہمی میں کسی تاخیر سے بچنے کے لیے ہر سطح پر براہِ راست رابطے قائم کیے گئے ہیں۔ حکام کو بھیجے گئے تمام ریکارڈ کی دوبارہ جانچ کی گئی تاکہ خاندانوں کو درست اپ ڈیٹس دی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال نازک ہے اور اہل خانہ کو مسلسل رہنمائی درکار ہے۔
اسی دوران انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایجنسیاں اور سرکاری محکمے مل کر مکمل فہرست کی تصدیق کر رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ہر متاثرہ فرد کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں اور کسی بھی مرحلے پر معلومات میں تضاد نہ ہو۔
جسد خاکی کی واپسی اور براہِ راست مداخلت | Pilgrim Aid
حیدرآباد رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ان کی سب سے اہم ترجیح یہ ہے کہ تمام میتیں حیدرآباد لائی جائیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے سفارتی حکام سے براہِ راست رابطے شروع کیے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈپٹی چیف آف مشن اور قونصل جنرل دونوں سے بات کی گئی ہے تاکہ پوری کارروائی میں تیزی لائی جا سکے اور اہل خانہ کو مسلسل اپ ڈیٹس ملتے رہیں۔
انہوں نے کہا کہ رابطے کا یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ہر متاثرہ خاندان کو مکمل تعاون فراہم نہ کر دیا جائے۔ حکام نے بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ہر مرحلے پر تال میل قائم رکھیں گے۔
