حیدرآباد: شہر حیدرآباد کے علاقے یاقوت پورہ میں 11 September کو پیش آئے ایک افسوسناک واقعہ نے شہریوں میں غم و غصہ پیدا کر دیا، جب اسکول جاتے ہوئے ایک بچہ کھلے نالے میں گر گیا۔ خوش قسمتی سے بچے کی ماں اور مقامی افراد نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے بحفاظت باہر نکال لیا۔ اس واقعے کو Yakutpura Manhole Incident قرار دیا جا رہا ہے اور شہر بھر میں بلدیہ کی لاپرواہی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ہائیڈرا (Hyderabad Disaster Response and Asset Protection Agency) کے کمشنر اے وی رنگناتھ نے جمعہ کو سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایجنسی اس واقعہ کی مکمل ذمہ داری قبول کرتی ہے اور آئندہ اس قسم کی لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ان کے مطابق مانسون ایمرجنسی ٹیم اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہی۔
تحقیقات اور کارروائی
کمشنر رنگناتھ نے تصدیق کی کہ اس معاملے کی باضابطہ تحقیقات جاری ہیں اور جس کسی کو بھی قصوروار پایا گیا، اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ واٹر بورڈ کے عہدیداروں کو پہلے ہی انتباہ دیا جا چکا ہے۔ مزید برآں، جو بھی شخص نالے کا ڈھکن کھلا چھوڑنے کا ذمہ دار پایا گیا، اس کے خلاف فوجداری مقدمہ درج ہوگا اور اسے جرمانے یا قید کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔
شہریوں کے خدشات
مقامی رہائشیوں نے تشویش ظاہر کی کہ اگر بچے کو بروقت نہ بچایا جاتا تو جانی نقصان ہو سکتا تھا۔ شہریوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ شہر بھر کے نالوں اور مین ہولز کو فوری طور پر محفوظ بنایا جائے۔ اس دوران کمشنر نے یقین دلایا کہ حیدرآباد میں تمام مین ہول کورز کو محفوظ کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات نہ ہوں۔
نتیجہ
یہ واقعہ نہ صرف بلدیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے بلکہ شہری سلامتی کے حوالے سے بھی سنگین تشویش کو جنم دیتا ہے۔ حکومت اور بلدیہ پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ فوری اقدامات کریں تاکہ Yakutpura Manhole Incident جیسے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں۔
