Read in English  
       
Vector Shield

حیدرآباد ۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی) نے مانسون سیزن سے قبل مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کی روک تھام کے اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے فیلڈ عملے کے لیے ریفریشر ٹریننگ پروگرام منعقد کیا۔ یہ تربیتی سرگرمی 9 جون کو میٹروپولیٹن سرویلنس یونٹ کے زیر اہتمام مانسون تیاریوں کے ایک حصے کے طور پر انجام دی گئی۔

اس پروگرام کا مقصد ڈینگی، ملیریا اور چکن گونیا جیسی بیماریوں کے تدارک اور کنٹرول سے متعلق فیلڈ عملے کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا تھا۔ مزید برآں، تربیتی سیشنز کی نگرانی چیف میڈیکل آفیسر آف ہیلتھ نے کی۔

جی ایچ ایم سی نے یہ تربیت سکندرآباد اور گولکنڈہ زونز کے ملازمین کے لیے 2 مرحلوں میں منعقد کی۔ پروگرام میں مجموعی طور پر 586 اہلکاروں نے شرکت کی، جن میں اسسٹنٹ میڈیکل آفیسرز آف ہیلتھ، سینئر اینٹومولوجسٹس، وارڈ اینٹومولوجی سپروائزرز اور فیلڈ اسٹاف شامل تھے۔

مانسون سے پہلے حفاظتی حکمت عملی | Vector Shield

تربیتی پروگرام کے دوران شرکا کو اینٹی لارول سرگرمیوں اور فوگنگ آپریشنز کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کی گئیں۔ اسی دوران مچھروں کی افزائش کے مقامات کی شناخت، لاروی سائیڈز اور انسیکٹی سائیڈز کے محفوظ استعمال سے متعلق عملی رہنمائی بھی دی گئی۔

حکام نے شرکا کو بتایا کہ بروقت اقدامات کے ذریعے بیماریوں کے پھیلاؤ کو مؤثر انداز میں روکا جا سکتا ہے۔ چنانچہ فیلڈ ٹیموں کو حساس علاقوں کی مسلسل نگرانی اور فوری کارروائی کے لیے تیار رہنے کی ہدایت دی گئی۔

نگرانی اور آگاہی پروگراموں پر زور | Vector Shield

تربیتی نشستوں میں اینٹومولوجیکل سرویلنس، بیماریوں کے ممکنہ پھیلاؤ سے نمٹنے کی تیاری اور فیلڈ مانیٹرنگ کے مختلف پہلوؤں کا بھی احاطہ کیا گیا۔ مزید یہ کہ عوامی آگاہی مہمات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے حکام نے کہا کہ کمیونٹی کی شمولیت بیماریوں کی روک تھام میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔

جی ایچ ایم سی کے مطابق مسلسل صلاحیت سازی اور باقاعدہ تربیتی پروگرام عوامی صحت کے تحفظ کی حکمت عملی کا اہم حصہ ہیں۔ اسی لیے فیلڈ ٹیموں کی مہارتوں کو بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ مضبوط اور تربیت یافتہ فیلڈ عملہ مانسون کے دوران بیماریوں کی نگرانی، بروقت نشاندہی اور مؤثر کنٹرول میں نمایاں کردار ادا کرے گا۔ لہٰذا شہر میں صحت عامہ کے نظام کو مزید مستحکم بنانے کے لیے اس نوعیت کے تربیتی پروگرام آئندہ بھی جاری رکھے جائیں گے۔