حیدرآباد: سابق رکن پارلیمنٹ اور تلنگانہ جاگروتی چیف کے کویتا نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بعد ریاستی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا، جس میں بی سی ریزرویشن سے متعلق گورنمنٹ آرڈر نمبر 9 کو کالعدم قرار دیا گیا۔
کویتا نے کہا کہ یہ فیصلہ ریونت ریڈی حکومت کی “نااہلی” کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں ہفتہ کی صبح تقریباً 8:30 بجے مکمل عدالتی حکم موصول ہوا، جس کے بعد انہوں نے کئی قانونی ماہرین سے مشاورت کی۔
فوری قانونی کارروائی کا مطالبہ | K Kavitha on BC Reservations
کویتا نے کہا کہ تلنگانہ حکومت کو فوری طور پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق، ریاست کو ان بلوں کی منظوری میں تاخیر کے خلاف اپیل کرنی چاہیے جو اسمبلی اور کونسل سے پہلے ہی منظور ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صدر اور گورنر کی جانب سے تاخیر سپریم کورٹ کے طے کردہ اصولوں کے خلاف ہے۔ کویتا نے یہ بھی واضح کیا کہ مقامی اداروں کے انتخابات اہم ہیں، لیکن سماجی انصاف اس سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔
کانگریس پر غفلت کا الزام | K Kavitha on BC Reservations
کویتا نے کانگریس حکومت پر الزام عائد کیا کہ اس نے 42 فیصد بی سی ریزرویشن کے معاملے پر کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے چھ ماہ تک بل یا آرڈیننس کی منظوری کے لیے کوئی مؤثر کوشش نہیں کی۔
انہوں نے زور دیا کہ ریاستی حکومت کو فوراً سپریم کورٹ سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ فیصلے میں تاخیر کے اس “غیر معمولی رویے” کو چیلنج کیا جا سکے۔ کویتا کے مطابق، یہ قدم سماجی انصاف کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔
The inept handling of enhanced reservation for BCs by the Revanth Reddy government has been totally exposed once again with the High Court striking down GO 9.
I received the full Highcourt order on the BC reservations in Telangana local bodies at around 8:30 am today. I have…
— Kavitha Kalvakuntla (@RaoKavitha) October 11, 2025
