Read in English  
       
MGNREGA Protest

حیدرآباد: وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے ہفتہ کے روز دہلی میں کانگریس ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی، جہاں منریگا کے نام میں تبدیلی کے خلاف ملک گیر احتجاج شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ پارٹی کے مطابق یہ احتجاج 5 جنوری سے پورے ملک میں شروع کیا جائے گا۔

یہ اجلاس آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے صدر دفتر اندرا بھون میں منعقد ہوا، جس کی صدارت ملکارجن کھرگے نے کی۔ اجلاس میں تقریباً 80 سینئر رہنماؤں نے شرکت کی اور اہم قومی امور پر غور کیا۔

اجلاس میں شریک نمایاں رہنماؤں میں سونیا گاندھی، راہل گاندھی، دگ وجے سنگھ، میرا کمار، ابھیشیک منو سنگھوی اور اشوک گہلوت شامل تھے۔ کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا اور دیگر خصوصی مدعو افراد بھی موجود رہے۔

اجلاس کے دوران رہنماؤں نے اس نئے قانون پر تفصیلی بحث کی، جس کے تحت مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ کا نام تبدیل کر کے نیا عنوان دیا گیا۔ کانگریس قیادت کا مؤقف تھا کہ اس تبدیلی سے اسکیم کی اصل روح اور مقصد کمزور ہوا ہے۔

5 جنوری سے ملک گیر احتجاج | MGNREGA Protest

ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں بعد ازاں عملی لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں یہ طے پایا کہ 5 جنوری سے ملک بھر میں احتجاج اور مظاہرے کیے جائیں گے۔ پارٹی نے اعلان کیا کہ یہ تحریک گاؤں گاؤں تک پہنچائی جائے گی۔

بعد میں ریونت ریڈی نے سوشل میڈیا پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس ’’مہاتما گاندھی نیشنل ایمپلائمنٹ گارنٹی اسکیم بچاؤ‘‘ تحریک کا آغاز کر رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ پارٹی کے اعلیٰ ترین فیصلہ ساز ادارے نے متفقہ طور پر منظور کیا ہے۔

اسکیم کے تحفظ کا عزم | MGNREGA Protest

ریونت ریڈی نے کہا کہ یو پی اے حکومت نے اس اسکیم کو بھوک کم کرنے اور دیہی علاقوں میں روزگار فراہم کرنے کے مقصد سے متعارف کرایا تھا۔ ان کے مطابق اس منصوبے سے دیہات میں بنیادی سہولیات کی بہتری میں بھی مدد ملی۔

کانگریس ورکنگ کمیٹی نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی مرکزی حکومت کے اس فیصلے کی سخت مذمت کی۔ پارٹی نے واضح کیا کہ مہاتما گاندھی کے نام سے منسوب اسکیم کے تحفظ کے لیے بڑے پیمانے پر احتجاج اور عوامی مہم جاری رکھی جائے گی۔