حیدرآباد: چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے جمعہ کے روز سابق بی آر ایس حکومت پر الزام عائد کیا کہ اس نے “KG to PGمفت تعلیم” اسکیم کے وعدے کو پورا نہیں کیا اور اقتدار چھوڑنے سے قبل اس عہد کو عملی جامہ نہیں پہنایا۔ وہ یوم اساتذہ کی تقاریب کے موقع پر شلپکلا ویدیکا میں خطاب کر رہے تھے۔
ریونت ریڈی نے کہا کہ محکمہ تعلیم کے کئی مسائل پچھلے ایک دہے سے حل طلب ہیں، اسی لئے وہ خود اس قلمدان کی براہ راست نگرانی کر رہے ہیں۔ انہوں نے تجویز پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ الگ وزیر مقرر کرنے کی بات کہی جا رہی ہے، لیکن یہ قلمدان اتنا دباؤ رکھتا ہے کہ کوئی بھی اس کو برداشت نہیں کر سکتا۔
یوم اساتذہ پر اساتذہ کو اعزازات
چیف منسٹر نے ریاستی اعزاز حاصل کرنے والے اساتذہ کو ایوارڈ پیش کرنے کے بعد ان کے ساتھ طعام میں شرکت کی۔ انہوں نے سابق صدر جمہوریہ اور بھارت رتن ڈاکٹر سروے پلی رادھا کرشنن کی جینتی پر گلہائے عقیدت پیش کئے اور تقریب سے خطاب کیا۔
“اساتذہ کو 10 سال نظر انداز کیا گیا”
ریونت ریڈی نے KG to PG پر سوال اٹھانے کے بعد بی آر ایس حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے 10 برسوں میں اساتذہ کے تبادلے یا نئی تقرریاں انجام نہیں دیں اور تعلیم کو ایک کاروبار میں بدل دیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت اساتذہ کی انجمنوں سے مسلسل بات چیت کر رہی ہے اور سرکاری تعلیم کو مضبوط بنانے کے لئے پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ کیا کسی سابق چیف منسٹر نے گورو پوجا میں شرکت کی؟ کیا پچھلی حکومت نے کبھی ایسی تقریب منعقد کی؟ اس کے برعکس انہوں نے اپنی شرکت کو بطور مثال پیش کیا اور کہا کہ موجودہ حکومت اساتذہ کو کمتر نہیں سمجھتی بلکہ سرکاری اسکولوں میں سہولتوں کی بہتری کے لئے کام کر رہی ہے۔
چیف منسٹر کے مطابق اس وقت 27 لاکھ بچے سرکاری اسکولوں میں اور مزید 37 لاکھ طلبہ 11,000 امدادی اداروں میں زیر تعلیم ہیں۔
اسکول انفراسٹرکچر اور ہاسٹلز کی صورتحال
ریونت ریڈی نے اعلان کیا کہ اسکولوں کی بنیادی سہولتوں میں بہتری کے لئے کارپوریٹ سوشیل رسپانسبلٹی فنڈز سے 130 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم ہی غریبوں کی تقدیر بدلنے کا واحد ذریعہ ہے اور اساتذہ کے لئے تنخواہوں اور سہولتوں کا بہتر ہونا ناگزیر ہے۔
حال ہی میں پیش آئے فوڈ پائزننگ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے ہدایت دی کہ اساتذہ کو چاہئے کہ وہ ہاسٹلز میں طلبہ کے ساتھ طعام کریں تاکہ ان میں اعتماد پیدا ہو۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے عثمانیہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا تقرر “سماجی انصاف اور میرٹ” کی بنیاد پر کیا ہے، جو پچھلے دور حکومت سے مختلف ہے۔
چیف منسٹر نے اساتذہ سے کہا کہ وہ غریب طلبہ کے مستقبل کی ذمہ داری قبول کریں، کیونکہ تعلیم اور سماجی مساوات ان کی حکومت کی پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔



































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































