Read in English  
       
Counterfeit Currency Racket

حیدرآباد ۔ ورنگل ٹاسک فورس اور نرسم پیٹ پولیس نے تلنگانہ میں جعلی کرنسی کے ایک بڑے گینگ کو بے نقاب کرتے ہوئے 8 افراد کو گرفتار کر لیا۔ تاہم پولیس کے مطابق یہ گروہ جعلی نوٹوں کی گردش اور دھوکہ دہی کی کارروائیوں میں ملوث تھا۔ مزید برآں اس کارروائی کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

پولیس نے بتایا کہ 3 ملزمان جعلی نوٹ تیار کرتے تھے اور انہیں بازاروں میں اصلی کرنسی کے طور پر چلاتے تھے۔ اسی دوران باقی 5 افراد لوگوں کو 1:3 تناسب میں رقم بڑھانے کا جھانسہ دے کر دھوکہ دیتے تھے۔ لہٰذا اس گینگ نے مختلف طریقوں سے شہریوں کو نشانہ بنایا۔

کارروائی کے دوران پولیس نے جعلی نوٹ، 148000 روپے نقد، لیپ ٹاپس، پرنٹرز، 13 موبائل فونز اور 2 گاڑیاں ضبط کیں۔ مزید یہ کہ ضبط شدہ الیکٹرانک اشیاء کی مالیت تقریباً 2800000 روپے بتائی گئی ہے۔

کیمیکل طریقے سے دھوکہ دہی کا انکشاف | Counterfeit Currency Racket

گرفتار افراد میں شاگنتی کرن، نیراتی شیوا، نیراتی رنجیت اور گڈی کنڈولا روی شامل ہیں جو نرسم پیٹ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اسی طرح ملگ ضلع کے گھن پور سے پوریکا راجکمار عرف راجو کو بھی گرفتار کیا گیا۔

دیگر ملزمان میں تنمالا راج شیکھر، مدروکولا ی کمبارم اور چینو سائی کرن شامل ہیں جن کا تعلق کھمم، بھونگیری اور کوتہ گوڈیم علاقوں سے ہے۔ مزید برآں پولیس نے ان کے خلاف مختلف مقدمات درج کیے ہیں۔

ایسٹ زون کے ڈی سی پی انکت کمار نے بتایا کہ پولیس نے تحقیقات کے دوران 3 افراد کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی۔ انہوں نے کہا کہ ملزمان لیپ ٹاپ اور پرنٹر کے ذریعے 100 روپے کے نوٹوں کی رنگین نقول تیار کرتے تھے۔ مزید برآں یہ نوٹ بازار میں اصلی کرنسی کے طور پر استعمال کیے جاتے تھے۔

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ گینگ کے دیگر افراد لوگوں کو رقم بڑھانے کے نام پر دھوکہ دیتے تھے۔ وہ 500 روپے کے اصلی نوٹ کو آئیوڈین محلول میں ڈال کر سیاہ کر دیتے تھے اور بعد میں سوڈیم تھیوسلفیٹ محلول سے دوبارہ اصلی حالت میں لاتے تھے۔

لہٰذا وہ متاثرین کو یقین دلاتے تھے کہ سیاہ کاغذی بنڈل بھی اصلی نوٹ بن سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ اس طریقے سے وہ لوگوں سے رقم لے کر فرار ہو جاتے تھے۔

پولیس کارروائی اور سابقہ جرائم | Counterfeit Currency Racket

پولیس کے مطابق یہ گینگ پہلے بھی گھن پور، مونڈا مارکیٹ، ویمسورو، کوتہ گوڑیم ، کے یو سی اور صوبیداری علاقوں میں اسی طرح کے جرائم میں ملوث رہا ہے۔ مزید برآں انہیں ماضی میں گرفتار کر کے جیل بھیجا جا چکا ہے۔

تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حال ہی میں انہوں نے حیدرآباد کے چھتری ناکہ اور نرسم پیٹ میں لوگوں کو دھوکہ دیا تھا۔ لہٰذا پولیس نے ان کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی ہوئی تھی۔

پولیس کمشنر نے اس کامیاب کارروائی پر ٹاسک فورس اور نرسم پیٹ پولیس ٹیم کی ستائش کی۔ انہوں نے اے سی پی مدھوسدن، اے سی پی رویندر ریڈی، انسپکٹر بابولال، انسپکٹر سرینواس، اے اے او سلمان پاشا اور دیگر اہلکاروں کی کارکردگی کو سراہا۔

آخر میں حکام نے کہا کہ اس طرح کی کارروائیاں عوام کو دھوکہ دہی سے بچانے کے لیے جاری رہیں گی۔