Read in English  
       
University Skill Reform

حیدرآباد ۔ ریاستی گورنر شیوپرتاپ شکلا نے جمعرات کے روز جامعاتی سربراہان کو ہدایت دی کہ وہ مہارتوں کی ترقی اور تعلیمی معیار میں مسلسل بہتری کو اولین ترجیح دیں۔ یہ ہدایات ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کے دوران سامنے آئیں، جس میں ریاست بھر کی جامعات کے وائس چانسلرز شریک ہوئے۔ اس موقع پر تعلیمی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے پر زور دیا گیا۔

پس منظر کے طور پر، اجلاس لوک بھون میں منعقد ہوا جہاں وی بالاکشٹا ریڈی نے گزشتہ 1 سال کے دوران متعارف کروائی گئی اصلاحات کی تفصیلات پیش کیں۔ ان اصلاحات میں نئے تعلیمی پروگرامز، تحقیق کے فروغ اور طلبہ کی مہارتوں کو بہتر بنانے کے اقدامات شامل تھے۔ مزید برآں، ان اقدامات کا مقصد جامعات کو زیادہ مؤثر اور عملی تعلیم کا مرکز بنانا ہے۔

اجلاس کے دوران وائس چانسلرز نے اپنی اپنی جامعات میں نافذ کردہ پالیسیوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے داخلہ نظام میں شفافیت، نصابی اصلاحات اور انتظامی مسائل پر بھی گفتگو کی۔ اس کے ساتھ ساتھ، انہوں نے طلبہ کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے متعارف کرائے گئے جدید پروگرامز کی تفصیل بھی بیان کی۔

جامعاتی مہارت کی سمت | University Skill Reform

گورنر نے واضح کیا کہ جامعات کو صرف ڈگریاں دینے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ انہیں طلبہ کی عملی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی ادارے ایسے مراکز بنیں جو روزگار کے مواقع بڑھائیں اور عالمی معیار پر پورا اتریں۔ تاہم، اس مقصد کے لیے قابل اساتذہ، جدید تربیتی نظام اور مسلسل تعلیمی ترقی ناگزیر ہے۔

مزید یہ کہ انہوں نے صنعت اور جامعات کے درمیان مضبوط روابط پر زور دیا۔ ان کے مطابق، اس اشتراک سے تحقیق، جدت اور عملی مسائل کے حل کو فروغ ملے گا۔ اسی دوران انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ تعلیم کو حقیقی دنیا کی ضروریات سے جوڑا جائے۔

پالیسی ہم آہنگی اور مستقبل کی حکمت عملی | University Skill Reform

گورنر نے اس بات پر زور دیا کہ جامعاتی مہارتوں کی ترقی کو روزگار کی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جائے۔ انہوں نے قومی تعلیمی پالیسی کے مؤثر نفاذ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ طلبہ کو عملی تعلیم کے ذریعے خود کفیل بنایا جائے۔ مزید برآں، انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ریاستی جامعات قومی سطح پر اپنی درجہ بندی بہتر بنا سکتی ہیں۔

اسی سلسلے میں انہوں نے اسٹارٹ اپ انڈیا، اسکل انڈیا اور ڈیجیٹل انڈیا جیسے اقدامات کا ذکر کیا جو نوجوانوں کی صلاحیتوں کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ علاوہ ازیں، اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے مختلف قومی اسکیمیں بھی مؤثر ثابت ہو رہی ہیں۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ بھارتی ماہرین کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے، جو تعلیمی نظام کی مضبوطی کا ثبوت ہے۔

اختتامیہ میں گورنر نے وائس چانسلرز کو کلیدی فیصلہ ساز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت ریاست کو تعلیم، تحقیق اور جدت کا مرکز بنا سکتی ہے۔ بعد ازاں انہوں نے ایک کتاب کی رونمائی بھی کی جس میں حالیہ تعلیمی اصلاحات کو دستاویزی شکل دی گئی ہے۔