Read in English  
       
Gig Workers Law

حیدرآباد ۔ تلنگانہ میں پلیٹ فارم پر کام کرنے والے کارکنوں کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں گورنر شیوا پرتاپ شکلا نے نئے قانون کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کے بعد ریاست بھر میں ڈیلیوری ورکرز اور کیب ڈرائیورز کو قانونی تحفظ اور فلاحی سہولیات فراہم کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ تاہم، اس قانون کو یوم مزدور سے قبل نافذ کیا گیا، جسے ایک علامتی اہمیت بھی حاصل ہے۔

ریاستی حکومت نے “تلنگانہ پلیٹ فارم بیسڈ گیگ ورکرز ایکٹ 2026” نافذ کیا، جس کے تحت تلنگانہ اس نوعیت کا قانون بنانے والی دوسری ریاست بن گئی ہے، جبکہ اس سے قبل راجستھان یہ قدم اٹھا چکا ہے۔ مزید برآں، حکام کے مطابق اس قانون کا گزٹ نوٹیفکیشن جمعہ کو جاری کیا جائے گا، جبکہ مزدور یونینز نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

فلاحی اقدامات کی فراہمی | Gig Workers Law

اس قانون کے تحت اوبر، اولا، سوئیگی اور زومیٹو جیسے پلیٹ فارمز سے وابستہ کارکنوں کو شامل کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ، حکومت نے کارکنوں اور ان کے خاندانوں کے لیے حادثاتی انشورنس، صحت انشورنس اور پنشن کو لازمی قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ، کم از کم اجرت اور دیگر لیبر تحفظات بھی قانون کا حصہ بنائے گئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ پلیٹ فارم کمپنیاں کسی بھی کارکن کو بغیر معقول وجہ کے ملازمت سے فارغ نہیں کر سکیں گی۔ مزید برآں، قانون میں گریجویٹی اور معاہداتی تحفظ سے متعلق دفعات بھی شامل کی گئی ہیں، جس سے کارکنوں کو مزید استحکام حاصل ہوگا۔

نفاذ اور اثرات | Gig Workers Law

دریں اثنا، اندازوں کے مطابق تلنگانہ بھر میں تقریباً 4.5 لاکھ کارکن اس قانون سے براہ راست فائدہ اٹھائیں گے۔ اس اقدام کو ریاست میں لیبر اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم، حکومت آئندہ 10 سے 15 دنوں میں اس قانون کے نفاذ سے متعلق تفصیلی رہنما خطوط بھی جاری کرے گی۔

مزید یہ کہ، ماہرین کے مطابق یہ قانون نہ صرف کارکنوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے گا بلکہ پلیٹ فارم معیشت میں شفافیت کو بھی فروغ دے گا۔ لہٰذا، اس کے دور رس اثرات ریاست کی معیشت اور مزدوروں کی فلاح و بہبود پر مرتب ہونے کی توقع ہے۔

آخر میں، یہ قانون اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت بدلتے ہوئے معاشی ڈھانچے کے مطابق مزدوروں کے حقوق کو ترجیح دے رہی ہے، جس سے ایک متوازن اور محفوظ کام کا ماحول قائم ہو سکتا ہے۔