Read in English  
       
Moharrum Funds Accountability

حیدرآباد ۔ مجلس بچاؤ تحریک (ایم بی ٹی) کے ترجمان امجد اللہ خان نے تلنگانہ حکومت کے محرم بجٹ سے متعلق دعوؤں پر سوال اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ محرم-2026 کے لیے فنڈز میں اضافے سے متعلق تمام سرکاری دستاویزات عوام کے سامنے لائی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر واقعی بجٹ میں اضافہ کیا گیا ہے تو متعلقہ سرکاری احکامات جاری کیے جائیں تاکہ عوام حقائق سے آگاہ ہو سکیں۔

امجد اللہ خان نے یہ مطالبہ اقلیتی بہبود کے وزیر محمد اظہرالدین کے اس بیان کے ردعمل میں کیا جس میں انہوں نے دبیرپورہ کے بی بی کا الاوہ کے دورے کے دوران محرم-2026 کے لیے بجٹ میں اضافے کا دعویٰ کیا تھا۔ ایم بی ٹی رہنما نے کہا کہ کانگریس حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ تیسرا محرم ہوگا، تاہم گزشتہ برسوں کے کئی ترقیاتی کام اب بھی مکمل نہیں ہو سکے ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ محرم-2024 اور محرم-2025 کے دوران منظور کیے گئے متعدد منصوبے ابھی تک ادھورے ہیں۔ مزید برآں انہوں نے سوال کیا کہ آیا اس سال محرم کی تیاریوں کے لیے کوئی نئی سڑک تعمیر کی گئی یا بڑے پیمانے پر مرمتی کام انجام دیے گئے ہیں۔

بجٹ اور انتظامات پر سوالات | Moharrum Funds Accountability

امجد اللہ خان نے وزیر کے دورے کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ محرم انتظامات سے وابستہ کئی اہم محکموں کے اعلیٰ عہدیدار اس موقع پر موجود نہیں تھے۔ ان کے مطابق ایسے دوروں کا مقصد مسائل کا جائزہ لینا اور فوری اقدامات کرنا ہونا چاہیے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو آفیسر تقریب میں شریک نہیں ہوئے۔ اسی طرح جی ایچ ایم سی، ٹی جی ایس پی ڈی سی ایل، پولیس محکمہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے سینئر افسران بھی غیر حاضر رہے، حالانکہ محرم کے جلوسوں اور مجالس کے انتظامات میں ان اداروں کا اہم کردار ہوتا ہے۔

ایم بی ٹی ترجمان نے کہا کہ وقف بورڈ محرم سے متعلق ایک بڑے منصوبے پر کام کر رہا ہے، اس لیے اس منصوبے سے وابستہ افسران کی غیر موجودگی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ مزید یہ کہ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت مسلسل 3 برس سے محرم انتظامات کے جامع اجلاس بروقت منعقد کرنے میں ناکام رہی ہے۔

ان کے مطابق محرم کے انتظامی اجلاس اکثر چند روز قبل منعقد کیے جاتے ہیں، جبکہ بونال اور گنیش اتسو جیسے تہواروں کی تیاریوں کا آغاز کئی ماہ پہلے کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے اس طرز عمل پر اعتراض کرتے ہوئے مساوی توجہ کا مطالبہ کیا۔

شہری سہولتوں کی صورتحال پر تشویش | Moharrum Funds Accountability

امجد اللہ خان نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے محرم کی تیاریوں کو دیگر بڑے تہواروں کے برابر اہمیت نہیں دی۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ گزشتہ 3 برس کے دوران نہ وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی اور نہ ہی حیدرآباد کے رکن پارلیمان اسدالدین اویسی نے بی بی کا علم کا دورہ کیا۔

انہوں نے شہری مسائل کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ دبیرپورہ دروازہ، شیخ فیض کمان اور دبیرپورہ ریلوے اوور برج سے بی بی کا الاوہ تک جانے والی سڑکیں خستہ حالی کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق سڑکوں پر گڑھے، کچرے کے ڈھیر اور تعمیراتی ملبہ زائرین کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔

مزید برآں انہوں نے کہا کہ بی بی کا علم کے جلوسوں کے استعمال میں آنے والے متعدد راستوں پر فوری توجہ درکار ہے۔ ان کے مطابق بار بار بجلی کی بندش، صفائی کے مسائل اور مجالس کے مقامات پر ناکافی بنیادی سہولتیں عوام کے لیے پریشانی کا سبب بن رہی ہیں۔

امجد اللہ خان نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعلیٰ کی صدارت میں فوری طور پر اعلیٰ سطحی محرم انتظامات اجلاس طلب کیا جائے۔ انہوں نے بجٹ کی تفصیلات منظر عام پر لانے، زیر التوا کاموں کو مکمل کرنے اور محرم-2026 سے قبل سڑکوں، صفائی، اسٹریٹ لائٹنگ اور بجلی کی فراہمی میں بہتری لانے کا بھی مطالبہ کیا۔