حیدرآباد: تلنگانہ کے سرپنچ انتخابات اس وقت کشیدگی کا شکار ہو گئے جب مختلف دیہات کے افراد نے ریزرویشن فہرست کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ حکومت نے بی سی آبادی کے اصل اعداد و شمار کو نظرانداز کر کے تازہ فہرست مرتب کی، جس سے پورا انتخابی عمل مشکوک دکھائی دے رہا ہے۔
درخواستوں میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ کئی دیہات میں زمرے اس طرح مقرر کیے گئے جو مقامی آبادی کے تناسب سے میل نہیں کھاتے۔ ویلدانڈہ منڈل کے تمّنو نی پلی سمیت ورنگل اور سنگاریڈی کے متعدد دیہات سے شکایات سامنے آئیں۔ مقامی افراد کے مطابق ریزرویشن درجہ بندی حقیقی آبادی کا درست عکس پیش نہیں کرتی۔
عدالتی سماعت اور انتخابی مرحلے کی پیچیدگیاں | Poll Dispute
ہائی کورٹ تمام درخواستوں کی سماعت کل کرے گی، لیکن یہ عمل اس لیے پیچیدہ ہو گیا ہے کیونکہ اسی دن ریاستی الیکشن کمیشن نے نامزدگیوں کی وصولی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اوورلیپ نے انتخابی شیڈول کے ابتدائی مرحلے پر غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے، جس کا اثر کئی دیہات میں کارروائی پر پڑ سکتا ہے۔
بی سی تنظیموں اور اپوزیشن جماعتوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ اس نے ریزرویشن عمل کو غلط طریقے سے انجام دیا، جس سے بی سی طبقات میں عدم اعتماد بڑھا ہے۔ ان کے مطابق سرکاری فیصلوں نے نہ صرف انتخابی تیاریوں میں رکاوٹ ڈالی بلکہ پُرانی بحث کو بھی دوبارہ بھڑکا دیا ہے۔
سیاسی ردِعمل اور عوامی بے چینی میں اضافہ | Poll Dispute
درخواستوں کے بعد ریزرویشن کا معاملہ ریاست میں ایک بڑے سیاسی موضوع کے طور پر ابھر آیا ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ شفافیت کے بغیر طے شدہ فہرستیں انتخابی عمل کی ساکھ متاثر کرتی ہیں۔ کئی علاقوں میں عوام نے بھی تشویش ظاہر کی کہ اگر ریزرویشن کے اصولوں کی دوبارہ جانچ نہ ہوئی تو پورا انتخابی مرحلہ متاثر ہو سکتا ہے۔
اس صورتحال نے یہ بحث تیز کر دی ہے کہ سرپنچ انتخابات کس طرح آگے بڑھیں گے اور آیا ہائی کورٹ کا فیصلہ فوری طور پر انتخابی تیاریوں میں تبدیلی لائے گا یا نہیں۔ ریاست بھر میں لوگ آئندہ سماعت کے نتائج کے منتظر ہیں۔
